کواور اگر وہ کہتے ہم نے سُنا اور مانااورسنئے اور مہلت دیجئے تو انکے لئے بہتراور بہت ٹھیک ہوتا لیکن ان کے کفر کے سبب اﷲنے ان پر لعنت کی ہے تو ایمان نہیں لاتے مگر کم ۔(پارہ ۵،النسآ ء ۴۶)
کچھ یہودی جب دربار ِ نُبوت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہوتے اور حُضُورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم سے کچھ عرض کرنا چاہتے تویوں کہتے ، آپ سنائے نہ جائیں ، جس سے ظاہر تو دعا ہوتی یعنی حُضُورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کوکوئی، ناگوار بات نہ سنائے اور دل میں بددُعا کا ارادہ کرتے کہ سنائی نہ دے اور جب حُضُوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کچھ ارشاد فرماتے اور یہ با ت سمجھ لینے کے لئے مہلت چاہتے تو رَاعِنا کہتے جس کا ایک پہلو ئے ظاہر(۱) یہ کہ ہماری رعایت فرمائیں(۲) اور مُراد خفی(۳)رکھتے،یعنی رعونت والا(۴)، اور بعض زَبَان دبا کر رَاعِیْنَا کہتے یعنی ہمارا چر واہا۔
جب پہلود ار با ت(۵) دین میں طعنہ ہوئی، تو صَرِیح و صاف کتنا سخت طعنہ ہوگی بلکہ انصاف کیجئے تو ان باتوں کا صَرِیح بھی ان کلمات کی شناعت(۶) کو نہیں پہنچتا ۔بہرا ہونے کی دعا یا ر عونت یا بکریاں چرانے کی نسبت کوان الفاظ سے کیا نسبت کہ شیطان سے علم میں کمتر یا پاگلوں چوپایوں سے علم میں ہمسر (۷)؟ اورخداکی نسبت وہ