لاَ نُکَفِّرُاَحَدًا مِنْ اَھْلِ الْقِبْلَۃِ۔
ترجمہ :'' ہم اہل قبلہ میں سے کسی کو کَافِر نہیں کہتے ''۔اور حدیث میں ہے جو ہماری نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کو منہ کرے او ر ہماراذبیحہ کھائے ،وہ مسلمان ہے۔(۱)
مُسلمانو ! اس مکر ِ خبیث میں ان لوگوں نے نری کَلِمَہ گوئی سے عَدُول کرکے صرف قبلہ روئی کانام ایمان رکھ دیا(۲)یعنی جوقبلہ روہوکر نماز پڑھ لے ,مسلمان ہے اگر چہ اﷲعَزَّوَجلَّ کو جھوٹا کہے ، محمدرَسُول اﷲعَزَّوَجلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کو گالیاں دے, کسی صورت کسی طرح ایمان نہیں ٹلتا۔
چوں وضوئے محکم ِبی بی تمیز (۳)اولاً ا س مکر کا جو ا ب
تُمہارا رب عَزّوَجلَّ فرماتاہے:
لَیۡسَ الْبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ
(۱)الجامع الصغیر ص ۵۴۔ج۷۔دار الفکر بیروت۔ رقم الحدیث ۲۰۸۱۹ (۲)ان لوگوں نے صرف کَلِمَہ پڑھنے اور مسلمان کہلانے سے بات بدل کرصرف قبلے کی طرف منہ کرنے کانام ایمان رکھ دیا ۔(۳)جس طرح کہ ایک جاہل عورت یہ نہیں سمجھتی کہ ریح وغیرہ خارج ہونے سے وضو کیسے ٹوٹ سکتا ہے ۔ اسی طرح یہ گستاخ نہیں سمجھتے کہ کفریہ کلمے سے ایمان کیسے جاسکتاہے ۔