اﷲتعالیٰ کے معلومات سے وہ نسبت بھی نہیں رکھتا جو(۱) ایک ذرے کے لاکھویں ،کروڑویں حصے برابر، تری کو، کروڑہاکروڑسمندروں سے ہو بلکہ یہ خود علوم محمد یہ(علیٰ صاحبھاالصَّلوٰۃالسلام )کاایک چھوٹا سا ٹُکڑا ہے(۲)۔ اِن تمام امور کی تفصیل'' الدولۃ المکیہ'' وغیرہا میں ہے۔
خیر تو یہ جملہ معتر ضہ تھا(۳) او ر اِن شاء اﷲُالعظیمُ بہت مفید تھا ، اب بحث سابق کی طرف عَوْدکیجئے(۴)۔= کہ اﷲعزّوجل اپنے انبیاء کرام علیھم السلام کو اپنے لامحدود علم میں سے'' کچھ علم'' عطافرماتاہے لیکن یہ'' کچھ علم ''دیگر مخلوق کے علم سے بہت زیادہ ہوتاہے۔اور ہمارے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲتعالی ٰ نے دنیا کے پہلے دن سے لیکر اسکے آخری دن تک کا تمام علم عطافرمایا اور اسکے علاوہ بھی بہت ساعلم عطافرمایاجس کی تفصیل ،لینے والاجانے یادینے والا، ہاں اتنا ضرور ہے کہ آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ علم اﷲتعالی کے لامحدود علم کے سامنے گویا ایسا ہی ہے جیسے کروڑوں سمندروں کے سامنے ایک قطرے کا چھوٹے سے چھو ٹا حصہ اور دیگر مخلوقات کا علم آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم کے سامنے ایسا ہے جیسے گویا سمندروں کے سامنے قطرہ۔(۱)یعنی اس دنیا کے پہلے دن سے لیکر آخری دن تک جو کچھ ہو ایا ہونے والا ہے اسکا علم ا ﷲتعالی کے علم کے سامنے وہ حیثیت بھی نہیں رکھتا جو قطرے کو کروڑوں سمندروں سے ہے۔(۲)یعنی اس دنیا کے روز اول سے آخری دن تک جو کچھ ہوایا ہونے والا ہے اسکا علم خودد آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علوم کا ایک چھوٹا ساحصہ ہے۔ (۳) یہ توضمنی طور پر ایک با ت تھی جو اصل موضوع سے علیحدہ تھی (کہ اصل موضوع تو گستاخوں کی گستاخانہ عبارتیں ہیں)۔(۴) یعنی جو بحث ہم کرچکے ہیں اسی کی طرف دوبادہ توجہ فر مائیں۔