اسلام کے بعد کا فر ہوگئے۔ یہاں سے وہ حضرات بھی سبق لیں جورَسُول اﷲعزّوجلّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے علوم غیب سے مطلقاً منکر ہیں(۱)۔ دیکھو یہ قول منافق کا ہے اور اس کے قائل(۲) کو اﷲتعالی ٰ و قرآن و رَسُول سے ٹھٹھاکرنے والا بتایا اور صاف صاف کَافِر مرتدٹھہرایا اور کیوں نہ ہو، غیب کی بات جاننی شان نبوت ہے جیسا کہ امام حجۃ الاسلام محمد غزالی احمد قسطلانی مولاناعلی قاری و علا مہ محمد زر قانی وغیرہم اکابر (۳)نے تصَرِیح فرمائی جس کی تفصیل رسائل عِلمِ غَیْب میں بفضلہ تعالیٰ بروجہ اعلیٰ مذکور(۴)ہوئی پھر اس کی سخت شامت (۵)، کمال ضلالت(۶) کا کیا پوچھنا جو غیب کی ایک با ت بھی، خدا کے بتائے سے بھی، نبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کو معلو م ہونا محا ل و نا ممکن بتاتاہے(۷)، اس کے نزدیک اﷲعزّوجلّ سے سب چیزیں غائب ہیں اور اﷲعزّوجلّ کو اتنی قدرت نہیں کہ کسی کو ایک غیب کا علم دے سکے، اﷲتعالیٰ شیطان کے دھوکوں سے پناہ دے۔ آمین۔
ہاں بے خدا کے بتائے،(۸) کسی کو ذرہ بھر کاعلم ماننا ،ضرور کفر ہے اور جمیع معلوما تِ اِلٰہِیَّہ کو علمِ مخلوق کا محیط ہونا بھی باطل (۹)اور اکثر علماء کے خلاف ہے