Brailvi Books

ایمان کی پہچان
95 - 162
اسلام کے بعد کا فر ہوگئے۔ یہاں سے وہ حضرات بھی سبق لیں جورَسُول اﷲعزّوجلّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے علوم غیب سے مطلقاً منکر ہیں(۱)۔ دیکھو یہ قول منافق کا ہے اور اس کے قائل(۲) کو اﷲتعالی ٰ و قرآن و رَسُول سے ٹھٹھاکرنے والا بتایا اور صاف صاف کَافِر مرتدٹھہرایا اور کیوں نہ ہو، غیب کی بات جاننی شان نبوت ہے جیسا کہ امام حجۃ الاسلام محمد غزالی احمد قسطلانی مولاناعلی قاری و علا مہ محمد زر قانی وغیرہم اکابر (۳)نے تصَرِیح فرمائی جس کی تفصیل رسائل عِلمِ غَیْب میں بفضلہ تعالیٰ بروجہ اعلیٰ مذکور(۴)ہوئی پھر اس کی سخت شامت (۵)، کمال ضلالت(۶) کا کیا پوچھنا جو غیب کی ایک با ت بھی، خدا کے بتائے سے بھی، نبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کو معلو م ہونا محا ل و نا ممکن بتاتاہے(۷)، اس کے نزدیک اﷲعزّوجلّ سے سب چیزیں غائب ہیں اور اﷲعزّوجلّ کو اتنی قدرت نہیں کہ کسی کو ایک غیب کا علم دے سکے، اﷲتعالیٰ  شیطان کے دھوکوں سے پناہ دے۔ آمین۔

     ہاں بے خدا کے بتائے،(۸) کسی کو ذرہ بھر کاعلم ماننا ،ضرور کفر ہے اور جمیع معلوما تِ اِلٰہِیَّہ کو علمِ مخلوق کا محیط ہونا بھی باطل (۹)اور اکثر علماء کے خلاف ہے
 (۱) کہتے ہیں کہ اﷲعزوجل نے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بالکل بھی عِلمِ غَیْب نہیں دیا۔(۲)کہنے والا۔(۳) انکے علاوہ دیگر بزرگوں نے واضح طور پر ارشا د فرمایا ۔(۴)بہترین طریقے سے لکھی گئی ہے۔(۵)بدبختی ۔ بد نصیبی ۔(۶)گمراہی ۔(۷) یعنی کہتا ہے کہ اگر خدا بھی بتائے تب بھی نبی علیہ السلام کو معلوم نہیں ہوسکتا (استغفراﷲکیسا بُرا عقیدہ ہے) ۔(۸)خدا کے بتائے بغیر(۹) اور یہ عقیدہ رکھنا بھی غلط ہے کہ کسی مخلوق کا علم اﷲتعالی کے علم کے برابر ہے یعنی  اﷲعزّوجل  نے کسی کو اپنے سارے علوم مکمل طور پر عطافرمادیے یہ عقیدہ غلط ہے اور اکثر علماء کرام اس عقیدے کو غلط فرماتے ہیں ہاں یہ درست ہے=
Flag Counter