Brailvi Books

ایمان کی پہچان
94 - 162
ترجمہ ''اوراگر تم ان سے پوچھو تو بے شک ضرور کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے(۱)،تم فرمادوکیااﷲاور اسکی آیتوں اوراسکے رسول سے ٹھٹھا کرتے تھے؟بہانے نہ بناؤتم کَافِر ہو چکے اپنے ایمان کے بعد''( پارہ ۱۰توبہ/ ۶۵ -۶۶)

    ابن ابی شیبہ وابن ابی جریرو ابن المنذروابن حاتم الشیخ اما م مجاہد تلمیذ خاص (۲) سیّد ُنا عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرماتے ہیں ۔
''وَلَئِنۡ سَاَلْتَہُمْ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّمَاکُنَّا نَخُوۡضُ وَنَلْعَبُ ؕ ''   قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنُافِقِیْنَ یُحَدِّ ثُنَا مُحَمَّدٌ اَنَّ نَاقَۃَ فُلَانٍ بِوَادِی کَذَا وَمَا یَدْرِیْہِ بِالْغَیْبِ۔
     یعنی کسی کی اُونٹنی گم ہوگئی ، اِس کی تلاش تھی ،رَسُول اﷲعزّوجلّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے فرمایا اُو نٹنی فُلاں جنگل میں فُلاں جگہ ہے اِس پر ایک مُنافق بولا '' محمد رَسُول اﷲعزّوجلّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم بتاتے ہیں کہ اُونٹنی فُلاں جگہ ہے ، محمد غیب کیا جانیں ؟ ''اِس پر اﷲعزّوجلّ نے یہ آیت کریمہ اتاری کہ کیا اﷲورَسُول عزّوجلّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم سے ٹھٹھاکرتے ہو (۳)، بہانے نہ بناؤ، تم مسلمان کہلاکر اس لفظ کے کہنے سے کَافِرہوگئے ۔ (دیکھو تفسیر امام ابن جریر مطبع مصر ، جلد دہم صفحہ ۱۰۵ و تفسیر دُرِ منثور اما م جلالُ الدین سیوطی جلد سوم صفحہ ۲۵۴) ۔

    مُسلمانو!دیکھو محمدرَسُول اﷲعزّوجلّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم  کی شان میں گستاخی کرنے سے کہ وہ غیب کیا جانیں, کَلِمَہ گوئی کام نہ آئی اور اﷲتعالی نے صاف فرمادیا کہ بہانے نہ بناؤ,تم
 (۱) ایسے ہی مذاق کررہے تھے(۲)خاص شاگرد۔(۳)مذاق اڑاتے ہو(۴)یہاں منکرین علم غیب دیوبندی،وہابیوں کے لئے درس عبرت ہے
انَّہ قَالَ فِی قَولِہٖ تعالی
Flag Counter