| ایمان کی پہچان |
ترجمہ :۔ منافقین جب تُمہارے حُضُورہوتے ہیں،کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کے بے شک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم یقیناً خداعَزّوَجلّ کے رسول ہیں اور اﷲعَزّّّوَجلّ خوب جانتاہے کہ بے شک تم ضروراُس کے رسول ہو اور اﷲ گواہی دیتاہے کہ بے شک یہ منافق ضرور جھوٹے ہیں ۔ (پارہ ۲۸، منافقون/ ۱)
دیکھو کیسی لمبی چوڑی کَلِمَہ گوئی ، کیسی کیسی تاکیدوں سے مْؤکَّد ,کیسی کیسی قسموں سے مُؤَیَّدْہرگز موجبِ اسلام نہ ہوئی(۱) اور اﷲوَاحِدقہّار نے ان کے جھوٹے کذاب ہونے کی گواہی دی تومَنْ قَالَ لَاْاِلٰہَ اِلاَّاﷲُ دَخَلَ الْجَنَّۃ
کا یہ مطلب گڑھنا(۲)صراحتہً قُرآن عظیم کا رد کرنا ہے۔ ہاں جوکَلِمَہ پڑھتا،اپنے آپ کومسلمان کہتا ہو اُسے مسلمان جانیں گے جب تک اِس سے کوئی کَلِمَہ، کوئی حرکت،کوئی فعل منافئ اسلام (۳)صادرنہ ہو ،بعدِ صدُورِمَنافی(۴) ہرگز کَلِمَہ گوئی کام نہ دے گی۔
تُمہارا رب عَزّوَجلَّ فرماتاہے:
'' یَحْلِفُوۡنَ بِاللہِ مَا قَالُوۡا ؕ وَلَقَدْ قَالُوۡاکَلِمَۃَ الْکُفْرِ وَکَفَرُوۡا بَعْدَ اِسْلٰمِہِمْ''
(۱) ان قسموں سے انکا ایمان ثابت نہ ہوا۔(۲) یہ مطلب اپنی طرف سے بیان کرنا (کہ کَلِمَہ پڑ ھ لو پھر چاہے کچھ بھی کرو مسلمان ہی رہوگے)۔(۳) اسلام کے خلاف۔ (۴)یعنی ایمان کے خلاف کچھ کہنے یاکرنے کے بعد صرف کَلِمَہ پڑھنا فائدہ نہ دے گابلکہ اس ایمان کے مخالف عقیدے سے توبہ بھی کرنی ہوگی۔اگر اس عقیدے سے توبہ نہ کرے اور زبان سے کَلِمَہ کی رٹ لگائے جائے پھربھی کَافِرہی رہے گا۔مثلاً کوئی شخص کہے کہ معاذاﷲخدا ظالم ہے اور اسکے ساتھ کَلِمَہ بھی پڑھتا جائے تو کَافِر ہی رہے گا۔