میں گزرا ، کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ نرے اِدِّعاَئے اسلام پر چھوڑدیئے جائیں گے اور امتحان نہ ہوگا؟ اِسلام اگر فقط کَلِمَہ گوئی کانام تھاتو وہ بے شک حاصل تھی پھر لوگوں کا گھمنڈ کیوں غلط تھا جِسے قُرآنِ عظیم رد فرمارہاہے,نیز:
تُمہارا رب عَزّوَجلّ فرماتاہے:
قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمْ تُؤْمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیۡمٰنُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمْ ؕ
ترجمہ :۔یہ گنوار(۲)کہتے ہیں ہم ایمان لائے ۔تم فرمادوایمان توتم نہ لائے ہاں یوں کہو کہ ہمُ مُطیع الاسلام(۳)ہوئے اورایمان ابھی تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا۔(پ۲۶، سور ہ حجرات ۱۴)
اور فرماتاہے :
اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُ اللہِ وَ اللہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُہٗ ؕ وَ اللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ
یعنی خواہ کچھ بھی کرے ،رہے گااسکا بیٹا ہی۔ (۲)جاھل ، دیہاتی ۔ (۳) اسلامی حکومت کے (محکوم )تابع ہوگئے ۔