اسلام نام کَلِمَہ گوئی کا ہے۔ حدیث میں فرمایا :
مَن قَالَ لاَاِلَہَ اِلاَّاللہُ دَخَلَ الجَنَّۃَ ،
ترجمہ:۔ '' جس نے لَااِلٰہَ الاّاﷲ کہہ لیا جنت میں جائے گا۔'' پھرکسی قول یا فعل کی وجہ سے کَافِر کیسے ہوسکتا ہے؟۔ مُسلمانو! ذرا ہوشیار خبردار ،اِس مکر مَلعُون کا حاصل یہ ہے(۳) کہ زَبان سے لاالہ الا اﷲ کہہ لینا گویا خدا کا بیٹا بن جانا ہے, آدمی کا بیٹا اگر اُسے گالیاں دے , جوتیاں مارے, کچھ کرے اس کے بیٹے ہونے سے نہیں نکل
(۱)ضروریات دین کو ماننا ضروری نہ رہے۔یعنی اپنی مرضی سے جس شرعی بات پر چاہاعمل کرلیااور جسے چاہاچھوڑدیا۔جس نبی علیہ السلام کی چاہی تو ہین کرڈالی۔ (۲)عوام کو دھوکا دینے کیلئے ۔
(۳) اس چالباز ی اور دھوکادہی کا مطلب یہ ہے۔