Brailvi Books

ایمان کی پہچان
90 - 162
باتیں بناتے ہیں کہ کسی طرح ضروریاتِ دین ماننے کی قید اٹھ جائے (۱) اسلام فقط طوطے کی طرح زَبَان سے کَلِمَہ رٹ لینے کانام رہ جائے ، بس کَلِمَہ کا نام لیتا ہوپھر چاہے خدا کو جھوٹا کذَّاب کہے، چاہے رسو ل صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کو سڑی سڑی گالیاں دے، اسلام کسی طرح نہ جائے
''  بَلۡ لَّعَنَہُمُ اللہُ بِکُفْرِہِمْ فَقَلِیۡلًا مَّا یُؤْمِنُوۡنَ﴿۸۸﴾
 (ترجمہ کَنزالایمان :بلکہ اﷲنے ان پر لعنت فرمادی انکے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔پارہ ۱، آیت ۸۸)۔

یہ مسلمانوں کے دشمن ، اسلام کے عدو، عوام کو چھَلنے(۲) او ر خدا ئے وَاحِد قہا ر کادین بدلنے کے لئے چند شیطانی مکرپیش کرتے ہیں ۔
مکرِاول
    اسلام نام کَلِمَہ گوئی کا ہے۔ حدیث میں فرمایا :
مَن قَالَ لاَاِلَہَ اِلاَّاللہُ  دَخَلَ الجَنَّۃَ ،
ترجمہ:۔ '' جس نے لَااِلٰہَ الاّاﷲ کہہ لیا جنت میں جائے گا۔'' پھرکسی قول یا فعل کی وجہ سے کَافِر کیسے ہوسکتا ہے؟۔ مُسلمانو! ذرا ہوشیار خبردار ،اِس مکر مَلعُون کا حاصل یہ ہے(۳) کہ زَبان سے لاالہ الا اﷲ کہہ لینا گویا خدا کا بیٹا بن جانا ہے, آدمی کا بیٹا اگر اُسے گالیاں دے , جوتیاں مارے, کچھ کرے اس کے بیٹے ہونے سے نہیں نکل
 (۱)ضروریات دین کو ماننا ضروری نہ رہے۔یعنی اپنی مرضی سے جس شرعی بات پر چاہاعمل کرلیااور جسے چاہاچھوڑدیا۔جس نبی علیہ السلام کی چاہی تو ہین کرڈالی۔ (۲)عوام کو دھوکا دینے کیلئے ۔ 

(۳) اس چالباز ی اور دھوکادہی کا مطلب یہ ہے۔
Flag Counter