Brailvi Books

ایمان کی پہچان
88 - 162
وقت اُس کی تعظیم انبیاءعلیہم السلام کی تعظیم ہوتی ۔اب اس کی تعظیم شیطا ن کی تعظیم ہوگی۔ یہ اس صورت میں ہے کہ عالمِ ،کفر سے نیچے(۱)کسی گمراہی میں ہوجیسے بدمذہبوں کے عُلماء پھر اس کوکیا پوچھنا جو خود کفِر شدید میں ہو (۲)اُسے عالِمِ دین جاننا ہی کُفر ہے نہ کہ عالِمِ دین جان کر اُس کی تعظیم ۔ 

    بھائیو! علم اس وقت نفع دیتا ہے کہ د ین کے ساتھ ہو ورنہ پنڈت یا پادری کیا اپنے یہاں کے عالم نہیں۔اِبلیس کتنا بڑا عالم تھا پھرکیا کوئی مُسلمان اُس کی تعظیم کریگا؟ اُسے تو مُعلِّم ُ المَلکْوْت کہتے ہیں یعنی فرشتوں کو علم سکھاتا تھا۔ جب سے اس نے محمد رسول اﷲعزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تعظیم سے منہ موڑا۔ حُضُور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نُورکہ پیشانئ آدم علیہ السلام میں رکھاگیا ، (۳)اسے سجدہ نہ کیا ، اُس وقت سے لعنتِ اَبدی (۴)کاطوق اُس کے گلے میں پڑا ،
 (۱)یعنی کم(۲) یعنی جو خود پکا کَافِر ہو اسکے بارے میں تعظیم کا خیال کیسا۔(۳)یعنی آدم علیہ السلام کی مبارک پیشانی میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک نور کو رکھاگیاتھا۔ یہ حدیث طبرانی نے معجم کبیر اور ابونعیم نے حلیہ میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی نیزتفسیر کبیرمیں امام فخرالدین رازی ج ۴۵۵ زیر قولہ تعالیٰ  تلک الرسل..ان الملئکۃ أمروا باسجود لآدم لأجل أن نور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی جبھتہ اٰدم ۔دونوں عبارتوں کا حاصل یہ ہے کہ فرشتوں کا  آدم علیہ الصلوٰۃوالسلام کو سجدہ کرنا اس لئے تھا کہ پیشانی میں نور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تھا (۴)ہمیشہ  ہمیشہ کیلئے اللہ کی رحمت سے دوری یعنی کبھی کبھی اس پر رحمت رب نہ ہوگی ۔
Flag Counter