وقت اُس کی تعظیم انبیاءعلیہم السلام کی تعظیم ہوتی ۔اب اس کی تعظیم شیطا ن کی تعظیم ہوگی۔ یہ اس صورت میں ہے کہ عالمِ ،کفر سے نیچے(۱)کسی گمراہی میں ہوجیسے بدمذہبوں کے عُلماء پھر اس کوکیا پوچھنا جو خود کفِر شدید میں ہو (۲)اُسے عالِمِ دین جاننا ہی کُفر ہے نہ کہ عالِمِ دین جان کر اُس کی تعظیم ۔
بھائیو! علم اس وقت نفع دیتا ہے کہ د ین کے ساتھ ہو ورنہ پنڈت یا پادری کیا اپنے یہاں کے عالم نہیں۔اِبلیس کتنا بڑا عالم تھا پھرکیا کوئی مُسلمان اُس کی تعظیم کریگا؟ اُسے تو مُعلِّم ُ المَلکْوْت کہتے ہیں یعنی فرشتوں کو علم سکھاتا تھا۔ جب سے اس نے محمد رسول اﷲعزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تعظیم سے منہ موڑا۔ حُضُور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نُورکہ پیشانئ آدم علیہ السلام میں رکھاگیا ، (۳)اسے سجدہ نہ کیا ، اُس وقت سے لعنتِ اَبدی (۴)کاطوق اُس کے گلے میں پڑا ،