Brailvi Books

ایمان کی پہچان
87 - 162
 فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوۡنَ
ترجمہ:- ''انہیں پڑھ کر سنااس کی خبر جسے ہم نے اپنی آیتوں کا علم دیا تھا وہ ان سے صاف نکل گیاتو شیطان اس کے پیچھے لگاکہ گمراہ ہوگیا اور ہم چاہتے تو اس علم کے باعث اسے گرے سے اٹھالیتے (۱) مگر وہ تو زمین پکڑ گیا(۲) اور اپنی خواہش کا پیرو ہو گیا تواس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر بوجھ لادے تو زبان نکال کر ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے یہ انکا حال ہے جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں۔تو ہمارا یہ ارشاد بیان کرو شاید یہ لوگ سوچیں۔ کیا برا حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ اپنی ہی جانوں پر ستم ڈھاتے تھے ۔جسے خدا ہدایت کرے وہی راہ پر ہے اور جسے گمراہ کرے تو وہی سراسر نقصان میں ہیں۔( پارہ ۹، اعراف ۱۷۵تا ۱۷۷)

یعنی ہدایت کچھ علم پر نہیں ،خدا کے اختیار میں ہے ۔ یہ آیتیں ہیں اور حدیثیں جو گمراہ عالموں کی مذمت میں ہیں انکا شمار ہی نہیں یہاں تک کہ ایک حدیث میں ہے۔

    دوزخ کے فرشتے بت پرستوں سے پہلے انہیں پکڑیں گے ،یہ کہیں گے کیا ہمیں بت پوجنے والوں سے بھی پہلے لیتے ہو؟ جواب ملے گا
لَیسَ مَن یَعلَم کَمَن لاّ یَعلَم(۴)۔ ''
بھائیو! عالِم کی عزّت تو اِس بنا پر تھی کہ وہ انبیاءعلیہم السلام کا وارِث ہے،انبیاءعلیہم السلام کا وارِث وہ جو ہدایت پرہواو ر جب گمراہی پر ہے تو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وارث ہوا یا شیطان کا ؟ اُس
 (۱) سنبھال لیتے ۔(۲)اپنی بات پر اڑ گیا۔(۳)ظلم کرتے (۴) جاننے والے او ر انجان برابر نہیں۔
Flag Counter