Brailvi Books

ایمان کی پہچان
85 - 162
جہانِ سے غنی(۱) ہوں اور تمام خوبیوں سے موصوف ، جل و علاو تبارک وتعالیٰ۔ یہ قُرآن حکیم کے اَحکام تھے اﷲسبحانہ وتعالیٰ جس سے بھلائی چاہے گا ان پر عمل کی توفیق دے گا مگر یہاں دو فرقے ہیں جن کو اِن احکام میں عُذر(۲) پیش آتے ہیں اول بے علم نادان،ان کے عذر دو قسم کے ہیں
عذرِاول
"فُلاں(۳) تو ہمارا اُستاد یا بزرگ یا دوست ہے اسے کافر کیوں کر مانیں''(۴) ، اس کا جواب تو قرآن عظیم کی مُتعدد آیات سے سُن چکے کہ رب جلّ جلالہ نے بار بار بتاکرصراحتہ ً (۵) فرمادیا کہ غضبِ اِلہٰی سے بچناچاہتے ہو تو اس باب میں(۶) اپنے باپ کی بھی رعایت نہ کرو۔
عذرِ دوم
"صاحب یہ بدگو لوگ بھی تو مولوی ہیں ،بھلا مولویوں کو کیوں کرکَافِرسمجھیں یا برا جانیں؟'' 	اسکا جواب
تُمہارا رب عَزّوَجلَّ فرماتاہے:
اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ وَ اَضَلَّہُ اللہُ عَلٰی عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَ قَلْبِہٖ وَ جَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ؕ فَمَنۡ یَّہۡدِیۡہِ مِنۡۢ بَعْدِ اللہِ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۲۳﴾
ترجمہ :۔بھلا دیکھو تو جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدابنا لیا اور اﷲعَزّوَجلَّ نے علم ہوتے
 (۱)تمام جہانوں سے بے پرواہ ہوں کسی کا محتاج نہیں (۲)رکاوٹیں ۔(۳) گستاخ ۔(۴) اسے کَافِر کیسے مانیں ۔(۵) صاف صاف کھلم کھلا۔(۶)ا س بار ے میں ۔
Flag Counter