| ایمان کی پہچان |
و خدمت کے آگے ناچیز جانو گے۔ توواجب واجب واجب،لاکھ لاکھ واجب سے بڑھ کر واجب کہ ان بدگو سے وہ نفرت و دوری و غیظ وجدائی ہو کہ ماں باپ کے دَشنام دَہِندَہ(۱) کے ساتھ اس کا ہزار واں حصہ نہ ہو۔ یہ ہیں وہ لوگ جن کیلئے اِن سات نعمتوں کی بشارت ہے۔ مُسلمانو! تُمہارا یہ ذلیل(۲) خیر خواہ (۳) اُمید کرتا ہے ۔کہ اﷲوَاحِدقہّار کی آیات اور اس بیانِ شافِی وَاضِحُ الْبَیِّنَات (۴)کے بعد اس بارے میں آپ سے زیادہ عَرْض کی حَاجَت نہ ہوتُمہارے ایمان خود ہی ان بدگویوں سے وہی پاک مبارک الفاظ بول اُٹھیں گے جو تُمہارے ربنے قرآن عظیم میں تُمہارے سِکھانے کو قومِ ابراہیم علیہ الصّلٰوۃ والتسلیم سے نقل فرمائے۔
تُمہارا رب عَزّوَجلَّ فرماتاہے:
قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ ۚ اِذْ قَالُوۡا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَءٰٓ ؤُا مِنۡکُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ ۫ کَفَرْنَا بِکُمْ وَ بَدَا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوۡا بِاللہِ وَحْدَہٗۤ
(۱)گالی بکنے والے ۔(۲)یہاں اعلٰحضرت عاشق ما ہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہ عاجز ی فرماتے ہوئے اپنے آپ کوذلیل کہتے ہیں حالانکہ اﷲعزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وہ عز ت دی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکروڑوں سنّیوں کا امام ،چودھویں صدی کا مجدد اور عرب وعجم کے علماء حق کا پیشوابنادیا۔۔۔۔۔۔ واہ کیا خوب خیر خواہی فرمائی ہے کروڑوں سنّیوں کا ایمان بچایا اور انہیں انگریزوں کے ایجنٹوں کے دام میں آنے سے خبر دار کیا فجزا ہ اﷲ عنا احسن الجزاء ۔(۳)بھلائی چاہنے والا۔(۴) واضح دلیلوں والے شفا بخش بیان کے بعد ۔