Brailvi Books

ایمان کی پہچان
80 - 162
کہنانہیں چاہیئے'' جس نے کہا کہ'' اِس کو کوئی سخت کَلِمہ نہ کہنا چاہیے ''(۱)۔جس نے کہا کہ'' اس میں تَکْفِیر عُلمائے سَلف کی لازم آتی ہے(۲)۔حنفی، شافعی پر طعن و تَضْلیل نہیں کرسکتا (۳)''یعنی خدا کو مَعَاذاﷲجھوٹا کہنا بہت سے علمائے سلف کا بھی مذہب تھا۔ یہ اِختِلاف حَنَفِی شَافِعی کاساہے۔ کسی نے ہاتھ ناف سے اُوپر باندھے ، کسی نے نیچے ، ایساہی اسے بھی سمجھو کہ کسی نے خدا کو سچا کہاکسی نے جھوٹا ،لہذا ''ایسے کو تَضْلیل و تَفْسِیْق سے مَامُون کرنا چاہیے''(۴)یعنی جو خدا کو جھوٹا کہے اسے گمراہ کیا معنی ؟گنہگار نہ کہو ، کیا جس نے یہ سب تو اس مُکَذِّبِ خدا کی نسبت بتایا(۵)اور یہیں خود اپنی طرف سے بَاوَصْف اس بے معنٰی اقرار (۶)کہ
'' قُدرۃ عَلٰی الْکِذْب مَعَ اِمْتِنَاعِ الْوُقُوْع
مسئَلہ اِتِّفَاقِیہ ہے''(۷)صاف صَرِیح کہہ دیاکہ وقوعِ کذب کے معنٰی درست ہوگئے(۸)یعنی یہ بات ٹھیک ہوگئی کہ خدا سے کِذْب واقع ہوا، کیا یہ شخص
 (۱)کوئی سخت بات ،برا بھلا نہیں کہنا چاہیے یعنی فتویٰ دیا کہ جوشخص خدا کو جھوٹا کہے اسے کچھ مت کہو نہ وہ کَافِر ہے نہ گنہگار بلکہ پکا مومن ہے ۔معاذاﷲ۔ 

(۲) یعنی اگر اسے کَافِر کہیں تو گذشہ زمانے کے علماء کرام بھی کَافِر قرارپائیں گے (گویا بقول گستاخ وہ سب بھی خدا کومعاذ اﷲجھوٹا کہتے تھے ) اگر اس شخص کو( جس نے خدا کو جھوٹا کہا) کَافِر کہتے ہیں توان علماء کو بھی کَافِر مانناپڑے گا۔(۳)کوئی حنفی یہ نہیں کہہ سکتا کہ امام شافعی کے ماننے والے گمراہ ہیں ۔(۴)یعنی ایسے شخص کو (جواﷲعزّوجل  کومعاذاﷲجھوٹامانے )نہ تو گمراہ کہناچاہیے نہ گناہ گار معاذاللہ ۔(۵)یعنی یہ فتوی تو اس شخص کے بارے میں دیا جس نے خدا کوجھوٹا کہا(کہ اُسے نہ تو گمراہ کہیں گے نہ گنہگار)۔ (۶)اس اقرارکے باوجود جسکی کوئی حیثیت نہیں ۔(۷) (وہ گستاخ کہتاہے)کہ اﷲعزّوجل جھوٹ بول سکتا ہے مگربولتا نہیں پھر اسکے ساتھ ہی کہتا ہے کہ اﷲعزّوجل نے جھوٹ بولا(معاذاﷲ)۔(۸) یعنی یہ بات ثابت ہوگئی کہ اﷲعزّوجل نے معاذاﷲجھوٹ بول دیا ۔لا حول ولا قوۃ الا باللہ
Flag Counter