Brailvi Books

ایمان کی پہچان
79 - 162
کَذٰلِکَ الْعَذَابُ ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ ۘ لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ ﴿٪۳۳﴾
(ترجمہ کنزالایمان : مار ایسی ہوتی ہے او ر بے شک آخرت کی مار سب سے بڑی ،کیا اچھاتھا ا گر وہ جانتے ۔ پار ہ ۲۹ القلم ۳۳)

    مُسلمانو ! یہ حالتیں تو ان کلمات کی تھیں جن میں انبیائے کرام و حُضُور پُر نُورسیِّد الاَنام (۱)علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہاتھ صاف کئے گئے(۲)پھر ا ن عبارات کا کیا پوچھنا جن میں اِصَالۃً بِالقَصْد(۳)رَبُّ العِزَّت عَزَّ جَلَالُہٗ کی عزت پر حملہ کیا گیا ہو۔

    خُدارا(۴)اِنصاف ! کیا جس(۵) نے کہا ''میں نے کب کہاہے کہ میں و قوعِ کذبِ باری کا (۶)قائل نہیں ہوں''؟ یعنی وہ شخص اس کا قائِل (۷)ہے کہ خدا بِالْفِعْل(۸) جھو ٹاہے جھوٹ بولا، جھوٹ بولتاہے۔ اُس کی نِسبت یہ فتویٰ دینے والا کہ'' اگر چہ اُس نے تاویلِ آیات میں خَطاکی مگر تاہم اس کو کَافِر یا بِدعتی یاضَالّ(۹)
 (۱) زمانے بھرکے امام ،آقاومولی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ (۲) بے عزتی و تَوْہِیْن کی گئی۔(۳) یقینی طور پر جان بوجھ کر ۔(۴) اﷲعزّوجل کے واسطے۔(۵)یہ کویئ دوسرا شخص ہے۔(۶) اﷲتعالی کے (معاذاﷲ)جھوٹ بولنے کا اﷲ کو جھوٹاکہنے والا۔(۷)اقرار کرنے والا ۔ یعنی کوئی شخص کہتاہے ''میں کب کہتا ہوں کہ اﷲعزّوجل  نے جھوٹ نہیں بولا '' ۔ یعنی میں توکہتا ہوں کہ جھوٹ بولاہے۔ (۸)عملی طور پر ۔(۹)اسکے بارے میں(اس خدا کو جھوٹا کہنے والے کے بارے میں)ماجرایہ ہے کہ کسی شخص نے کہا ''میں نے کب کہا ہے کہ میں وقوع کِذْب باری کاقائل نہیں؟ ''اس شخص کے بارے میں رشید احمد گنگوہی سے فتوی پوچھاگیا تو اس نے فتوی دیا کہ اگرچہ اس شخص نے آیات کے مطلب کو بیان کرنے میں غلطی کی ہے لیکن اسکو نہ تو کَافِر کہنا چاہیئے نہ بدعتی او ر نہ گمراہ بلکہ وہ پکا مومن ہے۔
Flag Counter