تو اُن سے بھی بڑھ کرگمراہ ہیں(پارہ ۱۹الفُرقان ۴۳-۴۴)
ان بدگویوں نے چوپایوں کا علم تو انبیاء علیہم ُ الصلوٰۃ والسلام کے علم کے برابرمانا ۔ اب ان سے پوچھیئے کیا تُمہارا علم انبیاء یا خود حُضُورسید الانبیاء علیہ والصلوٰۃ والثنا ء کے برابر ہے، ظاہراً اسکا دعویٰ نہ کریں گے اور اگر کہہ بھی دیں کہ جب چوپایوں سے برابر ی کردی، آپ تودوپائے ہیں (۱)برابر ی مانتے کیامشکل ہے ؟(۲) تو یوں پوچھیئے تمہارے اُستادوں ،پیروں ،مُلاؤں میں کوئی بھی ایسا گزرا جو تم سے علم میں زیادہ ہو یا سب ایک برابر ہو؟
آخر کَہِیں تو فرق نکالیں گے (۳)تواُن کے وہ اُستاد وغیرہ تو ان کے اقرار سے علم میں چوپائیوں کے برابر ہوئے اور یہ اُن سے علم میں کم ہیں ، جب تو(4)انکی شاگردی کی، اور جو ایک مُساوی سے کم ہو دوسرے سے بھی ضرور کم ہوگا(۵)تو یہ حضرات خود اپنی تقریر کی رُو سے چوپایوں سے بڑ ھ کر گمراہ ہوئے اور ان آیتوں کے مِصْداق ٹھہرے(۶)۔