Brailvi Books

ایمان کی پہچان
78 - 162
تو اُن سے بھی بڑھ کرگمراہ ہیں(پارہ ۱۹الفُرقان ۴۳-۴۴)

        ان بدگویوں نے چوپایوں کا علم تو انبیاء علیہم ُ الصلوٰۃ والسلام کے علم کے برابرمانا ۔ اب ان سے پوچھیئے کیا تُمہارا علم انبیاء یا خود حُضُورسید الانبیاء علیہ والصلوٰۃ والثنا ء کے برابر ہے، ظاہراً اسکا دعویٰ نہ کریں گے اور اگر کہہ بھی دیں کہ جب چوپایوں سے برابر ی کردی، آپ تودوپائے ہیں (۱)برابر ی مانتے کیامشکل ہے ؟(۲) تو یوں پوچھیئے تمہارے اُستادوں ،پیروں ،مُلاؤں میں کوئی بھی ایسا گزرا جو تم سے علم میں زیادہ ہو یا سب ایک برابر ہو؟

    آخر کَہِیں تو فرق نکالیں گے (۳)تواُن کے وہ اُستاد وغیرہ تو ان کے اقرار سے علم میں چوپائیوں کے برابر ہوئے اور یہ اُن سے علم میں کم ہیں ، جب تو(4)انکی شاگردی کی، اور جو ایک مُساوی سے کم ہو دوسرے سے بھی ضرور کم ہوگا(۵)تو یہ حضرات خود اپنی تقریر کی رُو سے چوپایوں سے بڑ ھ کر گمراہ ہوئے اور ان آیتوں کے مِصْداق ٹھہرے(۶)۔
 (۱)یعنی خود یہ گستاخ تو دوپاؤں والے ہیں ۔(۲) یعنی جب انبیاء کرام علیہم السلام کو علم میں جانوروں کے برابر کہدیا تو خود اپنے برابر کہنا انکے لئے کوئی با ت مشکل بات نہیں۔(۳)کسی کو تو اپنے سے زیادہ علم والاکہیں گے (۴)اسی لئے تو ان گستاخوں نے اُن کی شاگردی اختیارکی۔ (۵) یعنی دو مقداریں اگر برابر ہوں تو جو کوئی ان دونوں میں سے ایک سے کم ہوگاوہ دوسرے سے بھی کم ہوگا۔تو ان کے استاد تو علم میں جانوروں کے برابر ہوئے اور یہ اپنے استادوں سے علم میں کم ہیں تو گویا یہ لوگ جانوروں سے علم میں کم ہوئے اور جب جانوروں سے علم میں کم ہوئے تو جانوروں سے بڑھ کر گمراہ اور بدتر ہوئے۔ (۶)یعنی یہ قرآنی آیتیں پوری طرح انکی حالت بتارہی ہیں ۔یا انکا حال ان آیتوں کے مطابق ہوگیا۔
Flag Counter