نَقْلِی وعَقْلِی سے ثابت ہے انتہیٰ۔ پس ثابت ہوا کہ خُدا کے وہ سب اَقوال اسکی دلیل سے بَاطِل ہیں ۔مُسلمانو دیکھو ! کہ اس بدگو نے فقط محمدرسول اﷲ عزّجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم ہی کوگالی نہ دی بلکہ اُن کے رب (جَلَّ وعَلَا )کے کلاموں کو بھی بَاطِل ومَرْدُودکردیا (۱)۔
مُسلمانو!جس کی جُرَائَت یہاں تک پہنچی کہ رسول اﷲعزّجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے عِلمِ غَیْب کو پاگلوں اور جانور وں کے علم سے ملا دے(۲) اور ایمان و اسلام و اِن سَانِیَّت سے آنکھیں بندکرکے صاف کہہ دے کہ نبی اور جانور میں کیا فرق ہے، اس سے کیا تَعَجُّب کہ خدا کے کلاموں کورَدّ کرے(۳)باطل بتائے(۴) پَسِ پُشت ڈالے (۵)زیرِِپامَلے(۶)بلکہ جو یہ سب کچھ کلامُ اﷲکے ساتھ کرچکا وہی رسول اﷲعزّوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ اس گالی پر جُرَأَت کرسکے گا مگر ہاں اس سے دَریَافْت کرو(۷)کہ آپ کی یہ تقریر خو د آپ اور آپ کے اَسَاتِذَہ میں جاری ہے یا نہیں ؟(۸)اگر نہیں توکیوں ؟ اور اگر ہے توکیا جواب ہے ؟ ہاں ان بدگویوں سے کہو! کیا آپ حضرات اپنی تقریرکے طور پر جو آپ نے محمد رسول اﷲ عزّجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی شان میں جاری کی ،خود اپنے آپ سے اسے دَریَافْت کی اجازت دے سکتے ہیں کہ آپ صاحبوں کو عالم ، فاضِل، مولوی، ملا، چُنیں، چُناں (۹) فُلاں فُلاں کیوں کہاجاتا ہے اور حَیَوَانات وبَہَائِم مثلاًکُتّے سُورکوکوئی اِن الفاظ