بدگوئے مُصطفٰے کی تقریر(۱) کس طرح کلام اﷲجلّ جلاله ردّ کررہی ہے یعنی یہ بدگوخدا کے مُقَابِل کھڑا ہوکر کہہ رہاہے کہ آ پ (یعنی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم اور دیگر انبیاء علیہمُ الصّلوٰۃ ُ السلام) کی ذاتِ مُقدَّسہ پر علم کا اِطْلاق کیا جانا (۲) اگر بقولِ خدا صحیح ہوتودریافت طَلَب یہ اَمْر ہے(۳) کہ اس علم سے مراد بعض عِلم ہے یا کُل عُلوم ، اگر بعض عُلوم مراد ہیں تو اس میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم اور دیگر انبیاء علیہم اسلام کی کیا تَخْصِیْص ہے(۴) ایسا علم توزید و عَمْرو بلکہ ہرصبی و مَجْنون بلکہ جمیع حیوانات وبَہَائِم کے لئے بھی حاصل ہے کیونکہ ہرشخص کوکسی نہ کسی بات کا علم ہوتا ہے توچاہیے کہ سب کوعَالِم کہاجائے ،پھر اگر خدا اس کا اِلتِزام کرلے کہ ہاں میں سب کو عَالِم کہوں گا توپھر علم کو مِنْجُملہ کمالاتِ نَبَوِیَّہ(۵) شُمار کیوں کیا جاتاہے جس امر میں مومن بلکہ انسان کی بھی خُصُوصیَّت نہ ہووہ کمالاتِ نبوت سے کب ہوسکتاہے اور اگر اِلتِزَام نہ کیا جائے تونبی اور غیرِ نبی میں وجہِ فرق بیان کرنالازم ہے، اور اگر تمام علوم مُراد ہیں ، اس طرح اس کا ایک فردبھی خارج نہ رہے(۶)۱ تو اس کا بُطْلَان (۷)دلیلِ