Brailvi Books

ایمان کی پہچان
73 - 162
  یہاں نامعلوم باتوں کاعلم عطافرمانے کواﷲ عَزّوَجلَّ نے اپنے حَبِیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے کمالات ومَدَائِح میں شُمار فرمایا (۱)۔

     اور فرماتاہے :
'' وَ اِنَّہٗ لَذُوۡ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰہُ ''۔
ترجمہ :۔ اور بے شک یعقوب ہمار ے سکھائے سے علم والاہے ۔(پ۱۳، یُوسُف ۶۸)

    اور فرماتا ہے :
'' وَ بَشَّرُوۡہُ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ''۔
ترجمہ : ملائکہ نے ابراھیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو ایک علم والے لڑکے اسحٰق علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشارت دی۔(پ ۲۶، ذاریا ت ۲۸ )

    اور فرماتاہے :
'' وَعَلَّمْنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلْمًا ''۔
    ترجمہ:۔ اورہم نے خَضِر کو اپنے پاس سے ایک علم سکھایا ۔(پ ۱۵، الکھف ۶۵)

     وغیرہا(۲)آیات ، جن میں اﷲتعالیٰ لنے علم کو کمالاتِ انبیاء علیہمُ 

الصّلوٰۃ والسلام وَا لثناء میں گِنا ۔اب زید(۳)کی جگہ اﷲ عَزّوَجلَّ کا نام پاک لیجئے(۴)اور عِلمِ غَیْب کی جگہ مُطْلَق علم(۵)جس کاہرچوپائے کو ملنا اور بھی ظاہر ہے (۶)اور دیکھئے کہ اس
 (۱)کمال اور تعریف کے طور پر ارشاد فرمایا۔(۲) اور ان آیتوں کے علاوہ دیگرآیتوں میں ۔(۳) زید و بکر مثال کے طور پر کسی بھی شخص کو کہہ سکتے ہیں کوئی خاص آدمی مراد نہیں ہوتا ۔یہاں زید سے مراد کوئی سنّی شخص ہے۔ (۴) گستاخ کی عبارت میں جہاں زید کالفظ ہے وہاں اﷲعزّوجل کانام پاک رکھیئے ۔

 یعنی گستاخ کی عبارت میں عِلمِ غَیْب کی جگہ صرف علم ۔خواہ کسی بھی شے کا علم ہو۔(۶) یعنی صرف علم کا لفظ رکھیں کہ ''علم''کا ہر جانور کو ملنا زیادہ واضح ہے کہ ہر جانورکو کچھ نہ کچھ باتوں کاعلم تو ہوتاہے مثلاً  =
Flag Counter