| ایمان کی پہچان |
ہوتا ہے جودوسرے شخص سے مَخْفی(۱)ہے توچاہیے کہ سب کوعَالِمُ الغَیْب کہاجاوے، پھر اگرزید اسکا اِلْتِزَام کرلے(۲)کہ ہاں میں سب کوعَالِمُ الغَیْب کہوں گا توپھر عِلمِ غَیْب کومِنْجُملہ کمالاتِ نَبَوِیَّہ شمارکیوں کیا جاتا ہے(۳) ؟ جس امر میں مومن بلکہ انسان کی بھی خُصُوصِیّت نہ ہو وہ کَمالاتِ نُبُوَّت سے کب ہوسکتاہے؟اور اگر اِلتِزام نہ کیا جاوے تو نبی وغیرِنبی، میں وَجہِ فرق بیان کرناضرورہے(۴)،انتہٰی۔ کیا رسول اﷲ عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم اور جانوروں، پاگلوں میں فرق نہ جاننے والاحُضُور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوگالی نہیں دیتا ؟، کیا اُس نے اﷲ عَزّوَجلّ کے کلام کا صراحتہً رَدّواِبطال نہ کردیا ؟(۵) دیکھو:
تُمہارا رب عَزّوَجلَّ فرماتاہے:
'' وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ؕ وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا ﴿۱۱۳﴾''
ترجمہ:۔ اے نبی !اﷲ نے تم کو سکھایا جوتم نہ جانتے تھے اور اﷲکا فضل تم پر بڑاہے۔ (پارہ ۵،النسآء ۱۱۳)
(۱)چُھپاہواہے۔(۲)اقرار کرلے ،ارادہ کرلے کہ ہاں ایساہی ہے۔(۳)یعنی عِلمِ غَیْب اگر سب کو حاصل ہے تو پھر اس کو نبوت کے کمالات میں کیوں گناجاتاہے یعنی یہ کیوں کہاجاتاہے کہ فلاں نبی علیہ السلام کو عِلمِ غَیْب حاصل ہے کیونکہ ایسا عِلمِ غَیْب تو ہر بچے پاگل اور حیوان وغیرہ کو حاصل ہے۔(۴) (گویاگستاخ ہم سے کہتاہے) اگر سب کو عالم الغیب نہ کہاجائے تونبی اور غیر نبی میں فرق کرنے کی وجہ بتانا آپ پر لازم ہے یعنی بعض عِلمِ غَیْب توسب بچوں ،جانور وں وغیرہ کو حاصل ہے تو آپ(اہلسنت) انبیاء(کرام علیہم السلام) کو تو اس علم کے جاننے کی وجہ سے عالم الغیب کہتے ہیں اور جانوروں کو نہیں کہتے تو اسکی وجہ ضروربتائیں ؟۔جبکہ ہم اہلسنت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عالم الغیب نہیں کہتے بلکہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اﷲعزّوجل نے انہیں اپنے لامحدود علم میں سے '' ''کچھ'' عِلمِ غَیْب عطافرمایاہے اور اس وجہ سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم باکمال ہیں ۔(۵) یعنی کیا اس گستاخ نے اﷲ عزّوجل کے کلام کو کھلم کھلا جھوٹا ٹھہراکر اس کا انکار نہیں کیا؟