حَیَوَانات و بَہَائِم(۱)کے لئے بھی حاصل ہے''، کیا اس نے محمد رسول اﷲ عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کو صَرِیح گالی نہ دی ؟ کیانبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اتنا ہی علم غیب دیا گیا تھا، جتنا ہر پاگل اور ہرچوپائے کو حاصل ہے؟
مُسلمان! مُسلمان!اے محمدرسول اﷲ عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے امتی ! تجھے اپنے دین و ایمان کا واسطہ ، کیا اس ناپاک و ملعون گالی(۲)کے صَرِیح ہونے میں تجھے کچھ شبہ گزرسکتا ہے؟معاذاﷲ!کہ محمد رسول اﷲ عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی عَظْمَت تیرے دل سے ایسی نکل گئی ہو کہ اس شدید گالی میں بھی ان کی تَوْہِیْن نہ جانے اور اگر اب بھی تجھے اِعْتِبار نہ آئے، توخود اُن ہی بدگویوں سے پوچھ دیکھ، کہ آیا تمہیں اور تمہارے اُستادوں ، پیرجیوں کو کہہ سکتے ہیں کہ اے فلاں!تجھے اتنا ہی علم ہے جتنا سور کوہے تیرے استاد کو ایساہی علم تھا جیسا کتّے کوہے تیرے پیر کو اسی قَدْرعلم تھاجیسا گدھے کوہے ،یامختصر طور پراتنا ہی ہوکہ ا و علم میں اُلّو، گدھے ،کُتّے ،سورکے ہمسرو !دیکھو تو وہ اِس میں اپنی اور اپنے اُستاد، پیر کی تَوْہِیْن سمجھتے ہیں یا نہیں ؟قطعاًسمجھیں گے اور قابوپائیں تو سَرہوجائیں (۳)، پھرکیا سبب کہ جو کَلِمہ ان کے حق میں تَوْہِیْن وکَسْرِِشان(۴)ہو ، محمد رسول اﷲ عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تَوْہِیْن نہ ہو؟کیا مَعَاذَ اﷲ اِن کی عَظْمَت ان سے بھی گئی گُذری(۵) ہے ؟ کیا اسی کانام ایمان ہے ؟