Brailvi Books

ایمان کی پہچان
70 - 162
جوبا ت مخلوق میں ایک کے لئے ثابت کرنا شرک ہوگی ، وہ جس کسی کے لئے ثابت کی جائے، قطعاً شِرک ہی رہے گی(۱) کہ خُداجلّ جلالہ کا شریک کوئی نہیں ہوسکتا ، جب رسول اﷲ عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے لئے یہ وسعتِ علم ماننی شِرک ٹھہرائی, جس میں کوئی حصہ ایمان کا نہیں توضرور اتنی وسعتِ خُدا کی وہ خاص صِفَتْ ہوئی جس کو خُدائی لازم ہے(۲)جب تو نبی کے لئے اس کا ماننے والا کا فر مشرک ہوا اور اس نے(۳) وہی وُسعت ، وہی صِفَت خود اپنے منہ، اِبلیس کے لئے ثابت مانی تو صاف صاف شَیطان کو خُدا کا شریک ٹھہرایا۔ مسلمانو !کیا یہ اﷲ عَزّوَجلّ اور اُس کے رسول وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم دونوں کی توہین نہ ہوئی ؟ ضرور ہوئی ، اﷲ عَزّوَجلّ کی توہین توظاہر ہے کہ اِس کا شریک بنایا اور وہ بھی کسے؟ اِبلیس لَعین کو اور رسولُ اﷲعَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تَوْہِیْن یوں ،کہ اِبلیس کا مرتبہ اِتنا بڑھا دیا، کہ وہ تو(۴)خدا کی خاص صِفَتْ میں حِصّہ دار ہے، اور یہ(۵)اس سے ایسے مَحْرُوم, کہ ان کے لئے ثابت مانو، تو مشرک ہوجاؤ۔مُسلمانو!کیا خُدا اور رسول اﷲ عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تَوْہِیْن کرنے والا کافِر نہیں ؟ ضرور ہے۔ 

    کیا جس(۶)نے کہا کہ'' بعض علوم ِ غَیْبِیَہ مُرا د ہیں تو اس میں حُضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کیاتخْصِیْص ہے ایسا علمِ غیب تو زیدوعمر بلکہ ہر صَبِی (۷) و مَجْنون(۸) بلکہ جَمِیْع(۹)
 (۱)یعنی اگر آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے علم کی وسعت مانناشرک ہے تو شیطان کیلئے ماننا بھی شرک ہی ہوگا کیونکہ خدا کا کوئی بھی شریک نہیں ہوسکتا(۲) گویا جس کسی میں وہ صفت پائی جائے وہ خدا ہی ہوسکتا ہے اور کچھ نہیں۔(۳)اس گستاخ نے۔(۴)شیطان تو ۔(۵)یعنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔(۶)یہ قول اشر ف علی تھانو ی کا ہے جو اس نے اپنے رسالے ''حفظ الایمان ''کے ص ۸پر لکھاہے۔(۷)ظہر بچے ۔(۸)پاگل ۔(۹)تمام۔
Flag Counter