ایسوں کا لحاظ کرکے، اپنی جان کو ہمیشہ ہمیشہ غَضَبِ جبّارعزّوجلّ و عذابِ نار میں پھنسادینا، کیا عقل کی بات ہے ؟۔ لِلّٰہ لِلّٰہ (۱)ذرا دیر کو اﷲورسول عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے سِوا سب ایْں وآں سے نظر اٹھاکر(۲)آنکھیں بند کرو اور گردن جھکا کر اپنے آپ کو اﷲواحدقہّار کے سامنے حاضر سمجھواور نِرے خالص سچے اسلامی دل کے ساتھ محمد رسول اﷲ عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی عظیم عظمت(۳)،بُلند عزّت(۴)،رفیع وَجاھت (۵)، جو ان کے رب نے انہیں بخشی اور ان کی تعظیم کی، اْن کی تَوْقیر پر ایمان و اسلام کی بناء رکھی(۶) اسے دل میں جماکر اِنصاف و ایمان سے کہو،کیا جس(۷)نے کہاکہ شیطان کویہ وُسعت، نص سے ثابت ہوئی(۸) ، فخرِِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وُسعتِ علم کی کونسی نصّ قطعی ہے ؟(۹) اس نے محمد رسول اﷲ عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی شان میں گستاخی نہ کی ؟ کیا اُس نے ابلیسِ لَعین کے علم کو رسول اﷲ عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے علمِِ اقدس پر نہ بڑھایا ؟(۱۰)کیاوہ رسول اﷲ عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی وسعتِ علم سے کافِر ہو