Brailvi Books

ایمان کی پہچان
67 - 162
سُن رہاہوں تُمہارے دلوں کی حالت سے خبردار ہوں، دیکھو !بے پروائی نہ کرو، پرائے پیچھے، اپنی عَاقِبت نہ بگاڑو (۱)، اﷲ ورسول عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے مُقابِل ضدسے کام نہ لو، دیکھووہ تمہیں اپنے سخت عذاب سے ڈراتا ہے۔ اس کے عذاب سے کہیں پناہ نہیں ،دیکھو ! وہ تمہیں اپنی رَحمْت کی طرف بلاتا ہے ، بے اس کی رَحمْت کے کہیں نِبَاہ نہیں(۲) دیکھو اور گناہ، تو نِرے گناہ ہوتے ہیں(۳) جن پر عذاب کا اِستِحْقَاق ہو،مگر ایمان نہیں جاتا(۴)،عذاب ہوکر خواہ رب کی رَحمْت، حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شَفَاعت سے ،بے عذاب ہی چُھٹکاراہوجائے گا(۵) یا ہوسکتاہے ۔مگر یہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تَعْظیم کامَقام ہے اُنکی عظمت، اُن کی مَحَبت، مَدارِایمان ہے، قرآنِ مجید کی آیتیں سُن چکے کہ جو اس مُعاملہ میں کمی کرے اس پر دونوں جہان میں خدا کی لعنت ہے۔ دیکھو جب ایمان گیا،پھر اصلاً، ابدالآ باد تک(۶) کبھی، کسی طرح ہر گز، اصلاً، عذابِ شدید سے رہائی نہ ہوگی۔ گستاخی کرنے والے، جن کا تم یہاں کچھ پاس لحاظ کرو، وہاں اپنی بھُگت رہے ہونگے (۷)تمہیں بچانے نہ آئیں گے اور آئیں تو کیا کرسکتے ہیں ؟پھر
 (۱)کسی غیر (گستاخ)کی وجہ سے اپنی آخرت خراب مت کرو ۔(۲)اسکی رحمت کے بغیر کہیں پناہ نہیں۔(۳)یعنی کفروشرک کے علاوہ دوسرے گناہ توصرف گناہ ہی ہوتے ہیں انکے کرنے سے انسان کاایمان نہیں جاتا ۔

(۴)یعنی کفروشرک کے علاوہ دیگر گناہ سے بندہ عذاب کا مستحق ہومگرپھربھی کَافِر نہیں ہوتا۔(۵) یعنی دیگر گناہوں پر یا تو کچھ عذاب ہونے کے بعدیا اﷲعزّوجل  کی رحمت او رآقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شفاعت سے عذاب کے بغیر ہی چھٹکارا ہوجائے گا۔(۶) ہمیشہ ہمیشہ کیلئے کسی صورت میں ۔(۷)خود عذاب کا شکار ہونگے ۔
Flag Counter