سُن رہاہوں تُمہارے دلوں کی حالت سے خبردار ہوں، دیکھو !بے پروائی نہ کرو، پرائے پیچھے، اپنی عَاقِبت نہ بگاڑو (۱)، اﷲ ورسول عَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے مُقابِل ضدسے کام نہ لو، دیکھووہ تمہیں اپنے سخت عذاب سے ڈراتا ہے۔ اس کے عذاب سے کہیں پناہ نہیں ،دیکھو ! وہ تمہیں اپنی رَحمْت کی طرف بلاتا ہے ، بے اس کی رَحمْت کے کہیں نِبَاہ نہیں(۲) دیکھو اور گناہ، تو نِرے گناہ ہوتے ہیں(۳) جن پر عذاب کا اِستِحْقَاق ہو،مگر ایمان نہیں جاتا(۴)،عذاب ہوکر خواہ رب کی رَحمْت، حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شَفَاعت سے ،بے عذاب ہی چُھٹکاراہوجائے گا(۵) یا ہوسکتاہے ۔مگر یہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تَعْظیم کامَقام ہے اُنکی عظمت، اُن کی مَحَبت، مَدارِایمان ہے، قرآنِ مجید کی آیتیں سُن چکے کہ جو اس مُعاملہ میں کمی کرے اس پر دونوں جہان میں خدا کی لعنت ہے۔ دیکھو جب ایمان گیا،پھر اصلاً، ابدالآ باد تک(۶) کبھی، کسی طرح ہر گز، اصلاً، عذابِ شدید سے رہائی نہ ہوگی۔ گستاخی کرنے والے، جن کا تم یہاں کچھ پاس لحاظ کرو، وہاں اپنی بھُگت رہے ہونگے (۷)تمہیں بچانے نہ آئیں گے اور آئیں تو کیا کرسکتے ہیں ؟پھر