'' ترجمہ : ۔ بے شک جواﷲو رسول عزّوجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کو اِیْذاء دیتے ہیں ان پر اﷲ عَزّوَجلَّ کی لَعْنَت ہے دنیا و آخرت میں ،اور اﷲ عَزّوَجلَّ نے ان کیلئے ذِلّت کا عذاب تیارکر رکھا ہے ۔ (پارہ ۲۲،الاحزاب ۵۷)
اﷲ عَزّوَجلَّ اِیْذاء سے پاک ہے اُسے کون اِیْذاء دے سکتاہے ۔ مگر حَبِیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کو اپنی اِیْذاء فرمایا۔ اِن آیتوں سے اس شخص پر جو رسولُ اﷲعَزّوَجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے بدگویوں (۲) سے مَحَبَّت کا برتاؤ کرے، سات کوڑے ثابت ہوئے۔:
۱۔ وہ ظالم ہے۔ ۲۔ گُمراہ ہے۔ ۳۔ کافِر ہے۔ ۴۔ اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔ ۵ ۔ وہ آخرت میں ذلیل و خوارہوگا۔ ۶۔ اس نے اﷲواحد قَہَّار کوایذاء دی۔ ۷۔اس پر دونوں جہان میں خداعَزّوَجلّ کی لعنت ہے۔
اے مسلمان !اے مسلمان! اے اُمَّتِی سَیِّدُالِانْسِ وَالْجَانّ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم (۳)خُدارا،(۴) ذرا اِنصاف کر، وہ سات بہتر(۵)ہیں جو ان لوگوں سے یک لخت (۶)ترکِ
(۱) تکلیف(۲) گستاخوں سے ۔(۳)اے انسانوں اور جنّوں کے سردارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے امتی ۔(۴) اﷲکے واسطے ۔ (۵) وہ سات انعامات بہتر ہیں ۔(۶)فوراً۔