Brailvi Books

ایمان کی پہچان
62 - 162
۵) مُنہ مانگی مُرادیں پاؤگے بلکہ امید و خیال و گمان سے کَروڑوں دَرَجے اَفْزُوں۔(۱)

۶) سب سے زیادہ یہ کہ اﷲتم سے راضی ہوگا۔

۷) یہ کہ فرماتاہے ''میں تم سے راضی تم مجھ سے راضی ''بندے کیلئے اس سے زائد او رکیا نعمت ہوتی کہ اس کا رب اس سے راضی ہومگر اِنْتِہائے بندہ نوازی (۲) یہ کہ فرمایا اﷲان سے راضی وہ اﷲسے راضی ۔

مُسلمانو! خدا لگتی کہنا (۳) اگر آدمی کروڑجانیں رکھتا ہو اور سب کی سب ان عظیم دولتوں پر نثِار کردے(۴) تووَاﷲ(۵)کہ مفت پائیں (۶) ، پھرزیدوعمرو سے عَلاقَہ تعظیم و مَحَبت،یَک لَخْت قطع کردینا(۷)کتنی بڑی بات ہے؟(۸) جس پر اﷲ تعالی ٰاِن بے بَہَا(۹)نعمتوں کا وعدہ فرمارہاہے اور اُس کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔ قُرآنِ کریم کی عادتِ کریمہ ہے کہ جوحکم فرماتاہے جیساکہ اس کے ماننے والوں کو اپنی نعمتوں کی بَشارت دیتا ہے، نہ ماننے والوں پر اپنے عذابوں کا تَازْیَانہ(۱۰) بھی رکھتاہے کہ جو پست ہمت (۱۱)نعمتوں کی لالچ میں نہ آئیں ،سزاؤں کے ڈرسے، راہ پائیں ۔(۱۲)وہ عذاب بھی سن لیجئے:
 (۱) کروڑوں درجے زیادہ ۔(۲) غلاموں پر مہربانی کی انتہا۔(۳)سچی بات ۔(۴)فدا کر دے ،۔لُٹادے ۔ (۵)اﷲ کی قسم ۔(۶)مفت میں مل گئیں ۔ (۷)گستاخوں سے محبت وتعظیم کارشتہ مکمل طور پر ختم کردینا۔(۸)یعنی زیادہ بڑی بات نہیں ۔(۹) انمول ،انتہائی قیمتی ۔(۱۰)عذاب کی دھمکی عذاب کا کوڑا۔(۱۱) کم ہمت والے ۔

(۱۲) ہدایت پائیں
Flag Counter