۵) مُنہ مانگی مُرادیں پاؤگے بلکہ امید و خیال و گمان سے کَروڑوں دَرَجے اَفْزُوں۔(۱)
۶) سب سے زیادہ یہ کہ اﷲتم سے راضی ہوگا۔
۷) یہ کہ فرماتاہے ''میں تم سے راضی تم مجھ سے راضی ''بندے کیلئے اس سے زائد او رکیا نعمت ہوتی کہ اس کا رب اس سے راضی ہومگر اِنْتِہائے بندہ نوازی (۲) یہ کہ فرمایا اﷲان سے راضی وہ اﷲسے راضی ۔
مُسلمانو! خدا لگتی کہنا (۳) اگر آدمی کروڑجانیں رکھتا ہو اور سب کی سب ان عظیم دولتوں پر نثِار کردے(۴) تووَاﷲ(۵)کہ مفت پائیں (۶) ، پھرزیدوعمرو سے عَلاقَہ تعظیم و مَحَبت،یَک لَخْت قطع کردینا(۷)کتنی بڑی بات ہے؟(۸) جس پر اﷲ تعالی ٰاِن بے بَہَا(۹)نعمتوں کا وعدہ فرمارہاہے اور اُس کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔ قُرآنِ کریم کی عادتِ کریمہ ہے کہ جوحکم فرماتاہے جیساکہ اس کے ماننے والوں کو اپنی نعمتوں کی بَشارت دیتا ہے، نہ ماننے والوں پر اپنے عذابوں کا تَازْیَانہ(۱۰) بھی رکھتاہے کہ جو پست ہمت (۱۱)نعمتوں کی لالچ میں نہ آئیں ،سزاؤں کے ڈرسے، راہ پائیں ۔(۱۲)وہ عذاب بھی سن لیجئے: