Brailvi Books

ایمان کی پہچان
61 - 162
اس سے دوستی کرے وہ مسلمان نہ ہوگا۔ پھر اس حکم کا قطعاً عام ہونا بِالتَّصْرِیْح (۱) اِرشاد فرمایا  کہ باپ ،بیٹے ،بھائی ،عزیز سب کوگناِ یا، یعنی کوئی کیسا ہی تُمہارے زُعْم (۲) میں مُعَظَّم(۳) یا کیسا ہی تمہیں بِالطَّبع (۴)مَحبوب ہو، ایمان ہے تو گستاخی کے بعد اس سے مَحَبّت نہیں رکھ سکتے، اس کی وُقْعَت نہیں مان سکتے ورنہ مسلمان نہ رہوگے۔ مولٰی سُبْحَانَہ وَ تَعالٰی کا اتناٖٖٖفرمانا ہی مُسلمان کے لئے بَس تھا (۵) مگردیکھووہ تمہیں اپنی رَحمْت کی طرف بُلاتا،اپنی عظیم نعمتوں کا لالچ دِلاتا ہے کہ اگر اﷲورسول عزّوجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی عظمت کے آگے تم نے کسی کا پاس نہ کیا(۶)کسی سے عَلاقہ نہ رکھا تو تمہیں کیا کیا فائدے حاصل ہوں گے۔۱) اﷲتعالٰی تمہارے دلوں میں ایمان نَقْش کردے گا جس میں اِن شاء ا ﷲتعالٰی  حُسْنِ خَاتِمَہ کی بشارتِ جَلِیلہ (۷)ہے کہ اﷲعَزّوَجلَّ کا لکھا نہیں مٹتا۔۲) اﷲتعالی روحُ القدس (۸) سے تمہاری مددفرمائے گا۔

۳) تمہیں ہمیشگی کی جنتوں میں لے جائے گاجن کے نیچے نہریں رَواں ہیں ۔

۴) تم خدا کے گروہ کہلاؤگے ، خدا والے ہوجاؤگے۔
(۱)یعنی اس حکم کو کہ ''مسلمان کبھی گستاخ سے دلی دوستی نہ کریگا''یقینی طور پر سب کیلئے ایک ساہونا وضاحت سے ارشاد فرمایا کہ گستاخ خواہ کوئی بھی ہو اگرچہ باپ ہو،بیٹاہو،دوست یا رشتہ دار ہوحقیقی مسلمان وہ ہے کہ جواِن سے گستاخی کی بنا پر تعلق توڑدے۔(۲)خیال میں۔(۳)عزت و عَظْمَت والا۔ (۴) فطری طو ر پر ۔(۵) کافی تھا۔(۶) لحاظ نہ رکھا۔(۷)یعنی ایمان پرخاتمے کی عظیم خوشخبری ہے ۔ (۸)جبرائیل علیہ السلام ۔
Flag Counter