بکثرت فلسفی بڑے بڑے علُوم وفنون نہیں جانتے اوراگر یہ نہیں(۱) بلکہ محمد رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے مُقابِل (۲) تم نے اس کی بات بنانی چاہی (۳) اس نے حُضُورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم سے گستاخی کی اور تم نے اس سے دوستی نِبَاہی (۴)یا اسے ہربُرے سے بدتر برانہ جانا یااسے بُراکہنے پر بُرامانایا اسی قد ر کہ تم نے اس اَمْر میں بے پروائی مَنَائی (5)یا تمہارے دل میں اس کی طرف سے سخت نفرت نہ آئی ،تو ﷲِ اب تم ہی انصاف کرلو کہ تم ایمان کے امتحان ،قرآن و حدیث نے جس پر حُصولِ ایمان کا مَدار رکھا تھا (۶) اُس سے کتنے دورنکل گئے۔ مسلمانو!کیا جس کے دل میں محمد رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تعظیم ہوگی وہ ان کے بَدگو (۷)کی وُقْعَت کرسکے گا (۸) اگر چِہ اس کا پیر یا استادیا پِدر(۹)ہی کیوں نہ ہو ، کیا جسے محمد رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم تمام جہان سے زیادہ پیارے ہوں وہ ان کے گستاخ سے فورًاسخت شدید نفرت نہ کریگااگر چہ اسکا دوست یابِرادر (۱۰)یا پِسَر(۱۱)ہی کیوں نہ ہو ، ﷲِاپنے حال پر رحم کرو اپنے رب کی بات سنو، دیکھووہ کیوں کر تمہیں اپنی رَحمْت کی طرف بُلاتا ہے، دیکھو:-