Brailvi Books

ایمان کی پہچان
57 - 162
ترجمہ :۔ کیا لوگ اس گھمنڈ(1)میں ہیں، کہ اتناکہہ لینے پر چھوڑدیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔ ( پارہ ۲۰، العنکبوت ۱،۲)

    یہ آیت مسلمانوں کو ہوشیار کررہی ہے کہ دیکھوکَلِمَہ گوئی اور زَبانی اِدِّعائے مُسلمانی(3) پرتمہارا چھٹکارا نہ ہوگا۔ ہاں ہاں سُنتے ہو!آزمائے جاؤگے، آزمائش میں پورے نکلے تو مسلمان ٹھہروگے ۔ہر شئے کی آزمائش میں یہی دیکھاجاتاہے کہ جو باتیں اس کے حقیقی و واقعی ہونے کو درکار ہیں، وہ ا س میں ہیں یانہیں ؟(4) ا بھی قُرآن و حدیث ارشاد فرماچکے کہ ایمان کے حقیقی و واقعی ہونے کودوباتیں ضرورہیں(5) محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تعظیم اورمحمد، رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی مَحَبَّت کو تمام جہان پر تَقْدِیْم(6)، تو اس کی آزمائش کا یہ صَرِیْح(۷) طریقہ ہے کہ تم کو جن لوگوں سے کیسی ہی تعظیم، کتنی ہی عقیدت ، کتنی ہی دوستی ،
(۱)جھوٹے غرور، دھوکے ۔(۲)صرف زبان سے کَلِمَہ پڑھنا ۔(۳)مسلمان ہونے کا صرف زبانی دعویٰ کرنا(۴) ہرشے کی آزمائش میں یہی دیکھا جاتاہے کہ جوباتیں اس شئے کے اصلی ہونے کیلئے ضروری ہیں وہ اس شے میں موجود ہیں یا نہیں مثلاًپلاسٹک کے پھول یا پھل وغیرہ دیکھنے میں تو اصلی نظر آتے ہیں لیکن جوخصوصیات اصلی پھلوں یا پھولوں میں ہوتی ہیں یعنی ذائقہ ، خوشبویا کھانے کے قابل ہونا وغیرہ وہ ان نقلی پھلوں یا پھولوں میں نہیں پائی جاتیں اور اسی وجہ سے انھیں نقلی کہاجاتاہے، اسی طرح جو شخص بظاہر کَلِمَہ پڑھے،نماز و روزے کا اہتمام کرے ،لیکن اگر اسکے دل میں آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم و محبت ،جوکہ ایمان کی بنیاد ہے،نہ ہوتو وہ بظاہرمسلمان توہے مگر نقلی مسلمان یعنی منافق ہے کیونکہ اس کے دل میں ایمان کی بنیاد تعظیم و محبتِ رَسُول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم موجود نہیں ۔(۵)خالص ایمان کے لئے دوباتیں ضروری ہیں ۔ (۶) آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت کو کائنات کی ہرشے کی محبت پر فوقیت دینا۔(۷) واضح ۔
Flag Counter