Brailvi Books

ایمان کی پہچان
56 - 162
اﷲ عَزّوَجلَّ اسے اپنی طرف راہ نہ دے گا (1),اسے عذابِ الٰہی کے انتظار میں رہنا چاہیے
والعیاذ باﷲتعالیٰ۔
تُمہارے پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :
''لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاْسِ اَجْمَعِیْنَ۔''
ترجمہ: '' تم میں کوئی مسلمان نہ ہوگا جب تک میں اُسے اُس کے ماں باپ,او لاد اور سب آدمیوں سے زیادہ پیارانہ ہوجاؤں'' (ا) ۔ یہ حدیث بخاری وصحیح مسلم میں انس بن مالک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ اس نے تو یہ بات صاف فرمادی کہ جو حُضُورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم  سے زیادہ کسی کوعزیز رکھے، ہرگزمسلمان نہیں۔ مسلمانوکہو! محمد، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم  کو تمام جہانوں سے زیادہ مَحبوب رکھنا مدارِایمان و مدارِنجات(2) ہوایانہیں؟ کہو ہوااور ضرورہوا۔یہاں تک توسارے کَلِمَہ گو (3) خوشی خوشی قبول کرلیں گے کہ ہاں ہمارے دل میں محمد، رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم  کی عظیم عظمت ہے ۔ ہاں ہاں ماں باپ اولاد سارے جہان سے زیادہ ہمیں حُضُو ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی مَحبت ہے۔

بھائیو!خدا ایسا ہی کرے ,مگرذرا کان لگا کر(4) اپنے رب کا اِرشادسُنو:-
تُمہارا رب عَزّوَجلَّ فرماتا ہے:
''الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتْرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوۡنَ ﴿۲﴾''
(۱)ہدایت عطانہیں فرمائے گا۔ (۲)ایمان کی بنیاد اور عذاب سے چھٹکار ے کا دارومدار ہوا یا نہیں؟ہوا اور ضرورہوا۔(۳)کَلِمَہ پڑھنے والے اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے۔(۴)غور سے ، توجہ کےساتھ۔
Flag Counter