| ایمان کی پہچان |
مردودہے(1) ۔بہتیر ے جوگی(2) اور ر اہب (3) ترکِ دنیا کرکے، اپنے طور پر ذکر عبادت الٰہی میں عمرکاٹ دیتے ہیں بلکہ ان میں بہت وہ ہیں ،کہ لااِلٰہَ اِلَّا اﷲ کا ذکر سیکھتے اورضربیں لگاتے(4) ہیں مگر ازآنجاکہ محمد کی تعظیم نہیں،کیا فائدہ؟ اصلاً(5) قابل ِ قُبولِ بارگاہِ الہٰی نہیں(6) ، اﷲعزّوجل ایسوں ہی کو فرماتا ہے:۔
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿۲۳﴾
ترجمہ:۔'' جوکچھ اعمال انہوں نے کئے تھے، ہم نے سب برباد کر دئے ''۔ (پارہ ۱۹ ، الفرقان)
ایسوں ہی کو فرماتا ہے:
عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ ۙ﴿۳﴾ تَصْلٰی نَارًا حَامِیَۃً ۙ﴿۴﴾
ترجمہ :۔ عمل کریں، مَشَقَّتیں بَھریں (8)اوربدلہ کیاہوگا؟یہ کہ بھڑکتی آگ میں پیٹھیں گے(9)۔( پارہ ۳۰، الغاشیہ۳تا۴) والعیاذ باﷲ تعالی(10) ، مُسلمانو!کہو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تعظیم، مدارِ ایمان (11) و مدارِنجات(12) ومدارِقبولِ اعمال (13)
(۱)قابل قبول نہیں ۔(۲) ایسے ہندو جو دنیا سے ترک تعلق کرلیتے ہیں ۔(۳) ایسے عیسائی جو دنیا سے ترک تعلق کرلیتے ہیں(۴)صوفیاء دل کو صاف کر نے کیلئے ایک خاص طریقے سے ذکر کرتے ہیں اور دوران ذکر دل کی طرف توجہ کرتے ہیں اسے ضربیں لگانا کہتے ہیں۔(۵)مگر جب تک کہ (۶)بالکل ۔(۷)اﷲعزّوجل کے دربار میں قبولیت کے قابل نہیں۔(۸) تکلیفیں اٹھائیں ۔ (۹)داخل ہوں (۱۰) اﷲعزّوجل کی پنا ہ۔(۱۱)ایمان کی بنیاد ، جس پر ایمان کا دارومدار ہے۔(۱۲)نجات کا سبب۔ عذاب سے چھٹکارے کا سبب۔(۱۳)اعمال کی قبولیت کا سبب ۔جس کے سبب اعمال قبول ہوتے ہوں ۔یعنی آقا اکی تعظیم ایمان کی بنیاد ہے،آخرت میں عذاب سے چھٹکارا پانے اور نیک اعمال کی قبولیت کا سبب ہے=