کی آیات کریمہ نے دیئے ۔اب ایک پہلوپر جنت و سعادت سَرمَدی ، دوسری طرف شقاوت(۱) و جَہَنم ابدی(۲)ہے،جسے جو پسند آئے اختیار کرے مگر اتنا سمجھ لوکہ محمد رَسُول اﷲعزّوجلّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کادامن چھوڑ کر زید و عمر و(۳)کا ساتھ دینے والا کبھی فلاح نہ پائے گا(۴)، باقی ہدایت ربُ العزت کے اختیار میں ہے ۔
بات بحمد اﷲتعالی عَزَّوَجلَّہر ذی علم مسلمان کے نزدیک اعلیٰ بد یہیات سے تھی(۵) مگرہمارے عوام بھائیوں کو مُہریں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ، مہریں علمائے کرام حرمین طیبین(۶) اسے زائد کہاں کی ہوں گی جہاں سے دین کاآغاز ہوا اور بحکم احادیثِ صحیحہ کبھی وہاں شیطان کا دَور دورہ(۷) نہ ہوگا لہذا اپنے بھائیوں کی زیادتِ اطمینان (۸)کو مکہ معظّمہ و مدینہ طیبہ کے علمائے کرام و مفتیان عِظام (۹)کے حُضور فتوی ٰ پیش ہوا جس خوبی و خوش اُسلوبی (۱۰) و جوش ِ دینی سے ان عمائداسلام (۱۱)نے