Brailvi Books

ایمان کی پہچان
143 - 162
کی آیات کریمہ نے دیئے ۔اب ایک پہلوپر جنت و سعادت سَرمَدی ، دوسری طرف شقاوت(۱) و جَہَنم ابدی(۲)ہے،جسے جو پسند آئے اختیار کرے مگر اتنا سمجھ لوکہ محمد رَسُول اﷲعزّوجلّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کادامن چھوڑ کر زید و عمر و(۳)کا ساتھ دینے والا کبھی فلاح نہ پائے گا(۴)، باقی ہدایت ربُ العزت کے اختیار میں ہے ۔

     بات بحمد اﷲتعالی عَزَّوَجلَّہر ذی علم مسلمان کے نزدیک اعلیٰ بد یہیات سے تھی(۵) مگرہمارے عوام بھائیوں کو مُہریں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ، مہریں علمائے کرام حرمین طیبین(۶) اسے زائد کہاں کی ہوں گی جہاں سے دین کاآغاز ہوا اور بحکم احادیثِ صحیحہ کبھی وہاں شیطان کا دَور دورہ(۷) نہ ہوگا لہذا اپنے بھائیوں کی زیادتِ اطمینان (۸)کو مکہ معظّمہ و مدینہ طیبہ کے علمائے کرام و مفتیان عِظام (۹)کے حُضور فتوی ٰ پیش ہوا جس خوبی و خوش اُسلوبی (۱۰) و جوش ِ دینی سے ان عمائداسلام (۱۱)نے
 (۱)بدبختی ۔ (۲) ہمیشہ کیلئے جہنم کا عذاب۔(۳) یہ نام مثال کے طور پر استعمال کیئے جاتے ہیں یہاں ان سے گستاخ مراد ہیں ۔(۴) کامیابی نہ پائے گا۔(۵) یعنی اتنی زیادہ واضح تھی کہ جس کے سمجھنے کے لئے کسی دلیل وغیرہ کی بالکل ضرورت نہیں تھی ۔بدیہی اسے کہتے ہیں جو اتنا واضح ہو کہ سمجھنے کیلئے دلیل کی ضرورت نہ پڑے مثلاً دن کے وقت سورج ہوتا ہے رات کے وقت سورج سامنے نہیں ہوتا ، برف ٹھنڈی ہے ، آگ گرم ہے ، وغیرہا ،بدیہی کی جمع بدیہیات ۔ (۶)مکہ مکرمہ و مدینہ شریف کے علماء کرام رحمتہ اﷲعلیہم۔(۷) خاص و عام پر مکمل کنٹرول۔

(۸)مکمل طور پر تسلی کرنے کیلئے ۔(۹) بڑے بڑے مفتی حضرات کے سامنے ۔ (۱۰)اچھے طریقے سے ۔ (۱۱) بزرگان دین ،اسلام کے بڑے بڑے علماء رحمتہ اﷲعلیہم ۔
Flag Counter