تُمہارا رب عَزّوَجلَّ فرماتاہے:
وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَہَقَ الْبَاطِلُ ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾
ترجمہ:۔کہدو کہ آ یا حق اورمِٹا باطل ، بے شک باطل کوضرور مٹنا ہی تھا
( پارہ ۱۵، بنی اسرائیل/ ۸۱)
اور فر ماتاہے :
لَاۤ اِکْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ۚ
ترجمہ کنزالايمان:''کچھ زبردستی نہیں دین میں بے شک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے '' (۲) ۔(پارہ ۳،البقرۃ ۲۵۶)
یہاں چار مرحلے تھے:(۱) جو کچھ ان دشنامیوں نے لکھا ،چھاپا ضروروہ اﷲورَسُول جل وعلاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تَوْہِیْن و دشنام تھا۔اﷲورَسُول جل وعلا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی تَوْہِیْن کرنےوالا کَافِرہے ۔جو انہیں کَافِر نہ کہے،جو ان کا پاس لحاظ رکھے جو ان کی اُستادی یا رشتے یا دوستی کا خیال کرے وہ بھی ان میں سے ہے ، ان ہی کی طرح کَافِر ہے ، قِیَامَت میں ان کے ساتھ ایک رسی میں باندھا جائے گا۔جو عُذرومَکْر ،جُہَّال وضَلَّال(۲) یہا ں بیان کرتے ہیں سب باطل و نارو اا ور(۳) پادَر ہَوا(۴) ہیں ۔یہ چاروں بحمد اﷲتعالی بروجہ اعلیٰ(۵) واضح روشن ہوگئے جن کے ثبوت قُرآن ِعظیم ہی
(۱)تو یقینا انہیں کَافِر کہا، اور یہی ظالموں کا بدلہ ہے،کچھ زبردستی نہیں، حق کا راستہ گمراہی کے راستے سے صاف (وواضح) الگ ہوگیا ہے ۔ (۲)جاہل اور گمراہ لوگ۔(۳) غلط و ناجائز و بے کار ۔(۴) کمزور ۔(۵) اچھے طریقے سے بہترین طریقے سے ۔