Brailvi Books

ایمان کی پہچان
141 - 162
دشنامیوں پر اطلاعِ یقینی نہ ہوئی تھی)اٹھتر ۷۸وجہ سے بحکمِ فقہائے کِرام لزومِ کفر کا ثبوت دے کریہی لکھ چکاتھا کہ ہزار ہزاربار حاشاﷲِ، میں ہر گزانکی تکفیر پسند نہیں(۱)کرتا۔جب کیاان سے کوئی ملاپ تھا اب رنجش ہوگئی؟جب ان سے جائدادکی کوئی شرکت نہ تھی اب پیدا ہوئی ؟ حاشاﷲِ مُسلمانوں کا عَلاقَہ مَحَبّت و عداوت ،صرف مَحَبّت و عداوتِ خدا ورَسُول عزّوجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم ہے ،جب تک ان دشنام دہوں سے دشنام صادر نہ ہوئی یا  اﷲورَسُول عزّوجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی جنا ب میں ان کی دشنام نہ دیکھی سنی تھی، اس وقت تک کَلِمَہ گوئی کا پاس لازم تھا (۲)، غایت احتیاط سے کام لیا (۳)حتیٰ کہ فقہائے کرام کے حکم سے طرح طرح ان پر کفر لازم تھا مگر احتیاطاً ان کا ساتھ نہ دیا اورمتکلمین عظام کا مسلک اختیار کیا ۔جب صاف صَرِیح انکارِ ضروریاتِ دین ودشنام دہی ربّ العلمین وسید المرسلین عزّوجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم آنکھ سے دیکھی (۴)تو اب بے تکفیر چارہ نہ تھا (۵)کہ اکابر ائمہ دین کی تصَرِیحیں (۶)سن چکے کہ
مَن شَکَّ فِی عَذَابِہ وَکُفرِہ
 (۱)یعنی اعلیحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے ان گالی بکنے والوں کو اسوقت تک کَافِر نہ کہا اورجب تک کہ صاف واضح اور یقینی طور پر انکاکفر سورج سے زیادہ ظاہر نہ ہوگیا۔اس وقت تک انکو کَافِرکہنے میں احتیاط برتی ۔(۲) یعنی انکے کَلِمَہ پڑھنے کا لحاظ کرناضروری تھا۔(۳) انتہائی احتیاط کی ۔(۴) یعنی جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ یہ لوگ ضروریات دین کاانکار کرتے ہیں مثلاً آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوآخری نبی نہیں مانتے اور اﷲعزّوجل  اور سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں مثلاً اﷲعزّوجل کو معاذ اﷲجھوٹا کہا اور آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کوعلم میں شیطان سے کم اورجانوروں کے برابر بتایامعاذ اﷲ

(۵) تو اب کَافِر کہنا ضروری تھا۔(۶) بڑے بڑے علماء دین رحمتہ اﷲعلیھم کی کھلم کھلا وضاحتیں سن چکے کہ جو انکے کَافِر ہونے اور عذاب کا مستحق ہونے میں شک کرے وہ خود کَافِر ہے ۔
Flag Counter