دشنامیوں پر اطلاعِ یقینی نہ ہوئی تھی)اٹھتر ۷۸وجہ سے بحکمِ فقہائے کِرام لزومِ کفر کا ثبوت دے کریہی لکھ چکاتھا کہ ہزار ہزاربار حاشاﷲِ، میں ہر گزانکی تکفیر پسند نہیں(۱)کرتا۔جب کیاان سے کوئی ملاپ تھا اب رنجش ہوگئی؟جب ان سے جائدادکی کوئی شرکت نہ تھی اب پیدا ہوئی ؟ حاشاﷲِ مُسلمانوں کا عَلاقَہ مَحَبّت و عداوت ،صرف مَحَبّت و عداوتِ خدا ورَسُول عزّوجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم ہے ،جب تک ان دشنام دہوں سے دشنام صادر نہ ہوئی یا اﷲورَسُول عزّوجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی جنا ب میں ان کی دشنام نہ دیکھی سنی تھی، اس وقت تک کَلِمَہ گوئی کا پاس لازم تھا (۲)، غایت احتیاط سے کام لیا (۳)حتیٰ کہ فقہائے کرام کے حکم سے طرح طرح ان پر کفر لازم تھا مگر احتیاطاً ان کا ساتھ نہ دیا اورمتکلمین عظام کا مسلک اختیار کیا ۔جب صاف صَرِیح انکارِ ضروریاتِ دین ودشنام دہی ربّ العلمین وسید المرسلین عزّوجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم آنکھ سے دیکھی (۴)تو اب بے تکفیر چارہ نہ تھا (۵)کہ اکابر ائمہ دین کی تصَرِیحیں (۶)سن چکے کہ