بے حیا باش و آنچہ خواہی کن (۲)
مسلمانو یہ روشن ظاہر واضح قاہر عبارات تمہارے پیش نظر(۳) ہیں جنہیں چھپے ہوئے دس۱۰ دس ۱۰ اور بعض کو ستر ہ۱۷ او ر تصنیف کوا نیس ۱۹ سال ہوئے (اور ان دشنامیوں کی تکفیرتو ا ب چھ سال یعنی ۱۳۲۰ھ سے ہوئی ہے( جب سے المعتمدالمستند چھپی)ان عبارات کو بغورنظر فرماؤ اور اﷲو رَسُول عزّوجلّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے خوف کو سامنے رکھ کر انصاف کرو یہ عبارتیں فقط ان مُفتَریوں کا افتراء ہی رد نہیں کرتیں بلکہ صراحۃً صاف صاف شہادت دے رہی ہیں کہ ایسی عظیم احتیاط والے نےہرگز ان دشنامیوں کوکا فر نہ کہا جب تک یقینی ،قطعی ،واضح، روشن، جلی طور سے ان کا صَرِیح کُفرآفتاب سے زیادہ ظاہر نہ ہولیا جس میں اصلاً،اصلاً،ہر گز، ہرگزگنجائش ،کوئی تأویل نہ نکل سکی کہ آخر یہ بندہ خدا وہی توہے جو انکے اکابر پر ستر/ ۷۰،ستر/ ۷۰ وجہ سے لزومِ کُفر کاثبوت دے کر یہی کہتا ہے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےاہل ِ لاالہٰ الااﷲکی تکفیر سے منع فر مایا ہے جب تک کہ وجہ ِکفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوجائے اور حکم اسلام کے لئے اصلاً کوئی ضعیف ساضعیف محمل باقی نہ رہے۔
یہ بندئہ خدا وہی تو ہے جوخود ان دشنامیوں کی نسبت (جب تک ان کی