Brailvi Books

ایمان کی پہچان
139 - 162
مُدَّ عِیانِ جدید(۱) کو تو ابھی تک مسلمان ہی جانتا ہوں اگر چہ ان کی بدعت و ضلالت(۲) میں شک نہیں اور امام الطائفہ (اسمعیل دہلوی )کے کفر پر بھی حکم نہیں کرتا کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے اہل ِ لااِلہ ٰ الا اﷲ(۳)کی تکفیر سے منع فرمایا ہے جب تک وجہِ کفر، آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوجائے (۴)اور حکم اسلام کے لئے اصلاً کوئی ضعیف سا ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے ۔(۵)
فَاِنَّ الْاِسْلاَمَ یَعْلُوْ وَلاَ یُعْلٰی عَلَیْہِ(۶)۔
    مسلمانو ! مسلمانو! تمہیں اپنا دین وایمان اور روز قِیَامَت و حُضو رِ بارگا ہ رِحمن یاددلاکر اِستِفسَارہے (۷)کہ جس بندئہ خدا کی دربارئہ تکفیر (۸)یہ شدید احتیاط یہ جلیل تصَرِیحات(۹) اُس پر تکفیر،تکفیرکا اِفتِراء(۱۰) کتنی بے حیائی ، کیسا ظلم ،کتنی گھنونی ،ناپاک با ت ،مگرمحمد رَسُول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم فرماتے ہیں اور وہ جو کچھ فر ماتے ہیں قطعاً حق فرماتے
 (۱)نئے سرے سے یہ دعویٰ کرنے والے کہ ا ﷲعزّوجل جھوٹ بول سکتاہے یعنی گنگوہی اور انبیٹھوی ۔(۲) دین میں بری بات ایجاد کرنے اور گمرا ہ ہونے میں تو شک نہیں ہے ۔(۳) کَلِمَہ پڑھنے والوں کو کَافِر کہنے سے منع فر مایاہے ۔(۴)یعنی مکمل طور پر یقین نہ ہو جائے کہ یہ شخص کَافِر ہوچکا ہے ۔(۵)یعنی اس شخص کو مسلمان قرار دینے کیلئے کوئی ذرا سی گنجائش بھی باقی نہ رہے۔(۶) اس لئے کہ اسلام غالب ہے مغلوب نہیں تو جب تک اسلام کاکوئی چھوٹے سے چھوٹا معنئ اسلامی اسکے کلام میں ہوکفر کا حکم نہ دیں گے ۔

(۷)یعنی یہ بندئہ خدا(ا علیٰحضرت رحمتہ اﷲعلیہ کا اپنی طرف اشارہ ہے) تمہیں یاد دلاتاہے کہ قِیَامَت آئیگی اور اﷲعزّوجل کی بارگا ہ میں حاضر ہوناپڑے گا اس دن کو یاد کرکے بتاؤ کہ ۔(۸)کسی کوکَافِر کہنے کے بارے میں ۔(۹)مُصنّف کتاب مجددعظیم امام احمد رضارضی اﷲعنہ نے کتنی واضح عبارتیں لکھیں کہ ہم انہیں کَافِر کہنا پسند نہیں کرتے جب تک کہ مجبور نہ ہو جائیں ۔ (۱۰)یعنی مجھ پر یہ الزام لگانا کہ فلاں کوکَافِر کہہ دیا فلاں کو کَافِر کہلادیا کتنی بے حیائی کیسا ظلم اور کتنی گندی بات ہے ۔
Flag Counter