| ایمان کی پہچان |
اول ۱۳۱۷ھ کو عظیم آباد میں چھپا ، اس میں صفحہ ۱۰ پر لکھا ہم اس با ب میں قول متکلمین(۱) اختیار کرتے ہیں ان میں جو کسی ضرورئ دین کا مُنکِر نہیں نہ ضروریئ دین(۲) کے کسی مُنکِر کو مسلمان کہتاہے اُسے کَافِر نہیں کہتے ۔
خامساً اسمعیل دہلوی کو بھی جانے دیجئے ، یہی دشنامی لوگ جن کے کفر پر اب فتوی دیا ہے جب تک ان کی صَرِیح دشنامیوں(۳) پر اطلاع نہ تھی، مسئلہ امکان ِ کذب (۴)کے باعث ان پراٹھتر۷۸ وجہ سے لزومِ کفر (۵)ثابت کرکے(۶)سُبْحَانَ السُّبُوْحِ
میں بالآخر صفحہ ۸۰ طبع اول پر یہی لکھا کہ حاشاﷲ(۷)حاشاﷲِ ہزار ہز ار بار حاش ﷲِ میں ہرگز ان کی تکفیر(۸)پسند نہیں کرتا ، ان مقتدیوں (۹)یعنی
(۱)مسلمان علماء کا ایساگروہ جو عقائد پر منطقی انداز میں بحث کرتا ہے۔(۲)ضرورت دین (اسکی وضاحت ہوچکی ہے)۔(۳) کھلم کھلا گالیوں پر۔(۴)یعنی اﷲعزّوجل سے جھوٹ ممکن ہے یا نہیں(۵) ایسے کلمات جن کو بولنے سے انسان کَافِر ہوجاتاہے ان کلمات کے بارے میں یوں کہاجاتاہےکہ ''ان کلمات کااعتقاد اور یقین رکھنا کفر ہے ''اسے لزوم کفر کہتے ہیں یعنی کفر کا لازم ہونا۔ لزوم کفر میں ان کلمات کوتو کفریہ کہاجاتا ہے لیکن انکے کہنے والے کے متعلق نام لیکر یا اشارہ کرکے کفر کا فتویٰ صادر نہیں کیا جاتا جبکہ اِلتِزَام کفر میں اس شخص کو کَافِر قرا ر دیا جاتا ہے جس نے وہ کفر یہ کلمات کہے گویا آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ لزوم کفر ،کفریہ کلمات کو کفریہ قرار دیناہے اور اِلتِزَام کفر کفریہ کلمات کہنے والے کو کَافِر قراریناہے۔(۶) اٹھتر طریقوں سے اس (گنگوہی و انبیٹھوی )کے کلمات کو کفریہ ثابت کرکے ۔(۷)خدا کی قسم ہرگز نہیں(۸) کَافِرکہنا۔(۹)جیسے تھانوی صاحب کہ محمد رَسُول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جناب میں ان کی سخت گالی ۱۳۱۹ھ میں چھپی اس سے پہلے اپنے آپ کو سنی ظاہر کرتے بلکہ ایک وقت وہ تھا کہ مجلس ِ میلاد مبارک میں شریک اہل اسلام ہوتے ۔