Brailvi Books

ایمان کی پہچان
137 - 162
۱۳۱۲ھ (۱) دیکھئے کے صفَر ۱۳۱۲ھ  کو عظیم آباد میں چھپا ، اس میں اسمعیل دہلوی او ر اس کے متبعین پر بوجوہ قاہرہ لزوم ِکفر کا ثبوت دے کر صفحہ ۲۱،۲۲ پر لکھا یہ حکم فقہی متعلق بہ کلمات سفہی تھا (۲)مگر اﷲتعالی عزّوجل کی بے شمار رَحْمَتیں، بے حد بر کتیں ،ہمارے علمائے کرام پر کہ یہ کچھ دیکھتے ۔اس طائفہ (۳)کے پیر سے بات بات پر سچے مُسلمانوں کی نسبت حکم ِکفرو شرک سنتے ہیں(۴)، بَاِیں ہَمہ(۵) نہ شدتِ غضب دامنِ احتیاط ان کے ہاتھ سے چھُٹراتی ہے ، نہ قوتِ اِنتِقام حرکت میں آتی(۶)،وہ اب تک یہی تحقیق فرمارہے ہیں کہ لُزُوم و اِلتِزَام میں فرق ہے اقوال کاکَلِمَہ کُفر ہونا اور بات ،اور قائل کو کَافِر مان لینا اور بات ، ہم احتیاط برتیں گے ، سکوت کریں گے ،جب تک ضعیف ساضعیف احتمال ملے گا حْکم کفر جاری کرتے ڈریں گے ،اھ مختصرا۔

    رابعاً
اِزَالَۃُ الْعَارِبِحَجْرِ الْکَرَائِمِ عَنْ کِلاَبِ النَّارِ
دیکھئے کہ بار
(۱)کَافِر کہنے سے۔(۲) زبان روکنا ، خاموشی اختیار کرنا ۔(۳)پسندیدہ اور مناسب ہے یعنی ہم نے اسے کَافِر کہنے سے اپنی زبان کو روک رکھاہے یہی ہم نے اختیار کیا ہے اور یہی مناسب ہے۔ 

(۱)''سل السیوف الہندیہ علی کفریات با باالنجدیہ'' یہ بھی اعلیٰ حضرت رضی اﷲعنہ کا ایک مبارک رسالہ ہے۔جس میں اسمٰعیل دہلوی کا رد ہے(۲) یعنی کفر کا یہ شرعی حکم ان بے قوفانہ الفاظ کے متعلق تھا (ان الفاظ بولنے والے کوکَافِر نہیں کہا بلکہ کہا کہ یہ الفاظ کفریہ ہیں)۔ 

(۳)گروہ ۔ (۴)یعنی اسمعیل دہلوی اور اسکے چیلے با ت بات پر سچے مسلمانوں کو کَافِر و مُشرِک ٹھہراتے ہیں علماء ِ اسلام رحمتہ اﷲعلیہم یہ سب سنتے اور برداشت کرتے ہیں۔(۵) اسکے باوجود۔ (۶)یعنی اسمعیل دہلوی سچے مسلمانوں کوبات با ت پر کَافِر کہتاہے لیکن علماء اہل ِ سنّت اسکے باوجود نہ تو کوئی انتقامی کاروائی کرتے ہیں اور نہ غصے کی شدت میں احتیاط کو ترک فر ماتے ہیں (کہ اسے بلا وجہ کَافِر قر ار دیتے)۔
Flag Counter