=اور تقریبات کو مکمل کرتے جائیں تو بالآخر کسی ضرورئی دینی کا انکار لازم آئے، جیسے رافضیوں کا حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خلافت کا انکار کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام صحابہ کرام گمراہ ہوں اور یہ بات قطعی طور پر کفر ہے مگر شیعوں نے اس بات کا صراحتہً اقرار نہ کیا بلکہ اپنے طور زبانی دعووں سے بعض صحابہ کرام مثلاً اہلیبیت کرام کو اپنا پیشوا مانتے ہیں، اس کفر لزومی کے بارے میں علمائے اہلسنت مختلف ہوگئے،جنہوں نے کلام کے انجام و لازم کی طرف نظر کی انہوں نے کفر کا حکم لگایا اور تحقیق یہ ہے کہ کفرکا حکم لگایا اور تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں بلکہ بدعت وبد مذہبی و گمراہی ہے(فتاویٰ رضویہ، جدید ج۵ص۴۳۱
۲۔ کفرِ التزامی:التزامی یہ کہ ضروریاتِ دین میں سے کسی شے کا صراحۃً سے انکار کرے یہ قطعا اجماعاً کفر ہے اگرچہ کفر کے نام سے چڑے اور کمالِ اسلام کا دعویٰ کرے۔ کفر التزامی کے یہی معنی نہیں کہ صاف صاف اپنے کافر ہونے کا اقرار کرتا ہو جیسا کہ بعض جاہل لوگ سمجھتے ایسا اقرار تو بہت سے کافر لوگوں میں بھی نہ پایا جائیگا ۔ہم نے بہت سے ہندؤوں کو دیکھا ہے کہ کافر کہلانے سے چڑتے ہیں بلکہ کفرِالتزامی کا یہ معنی ہے کہ جو انکار اس سے صادر ہوا یا جس بات کا اس نے دعویٰ کیا وہ بعینہ کفر اور ضروریاتِ دین کے خلاف ہو جیسے نیچری فرقے نے فرشتوں، جنوں، شیطان ، آسمان، جنت،جہنم، اور معجزات انبیاءکرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ان معنوں پر انکار کیا جو مسلمانوں کے نزدیک حضور پر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے تواتر سے ثابت ہیں، نیچروں نے مذکورہ تمام چیزوں کے اپنی طرف سے گھڑ کر مفہوم بیان کئے، ان کی تاویلیں ہر گز انہیں کفر سے نہیں بچا سکیں گی اور نہ ہی اسلام سے محبت اور قوم سے ہمدردی کے جھوٹے دعوے کام آئیں گے۔ (ملخص از فتاوی رضویہ جدید ۱۵ ص ۴۳۱)