''قُلْ ہَاتُوۡا بُرْہَانَکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ"
ترجمہ :'' لاؤ اپنی برھان(۱) اگر سچے ہو'' (پارہ ۲۰،النمل /۶۴) اس سے زیادہ کی ہمیں حاجت نہ تھی مگر بفضلہ تعالی ہم ان کی کَذَّابی(۲) کا وہ روشن ثبوت دیں کہ ہر مسلمان پران کا مُفتَرِی ہونا آفتاب(۳) سے زیادہ ظاہر ہوجائے ۔ ثبوت بھی بحمدہ تعالی عزّوجلّ تحریری ، وہ بھی چھَپا ہوا، وہ بھی نہ آج کا ،بلکہ سالہاسال کا، جن جن کی تکفیر کا اِتِّہام(۴) علمائے اہل ِ سنّت پر رکھا ان میں سب سے زیادہ گنجائش اگر ان صاحبوں کو ملتی تو اسمعیل دہلوی میں کہ بیشک علمائے اہلسنت نے اس کے کلام میں بکثرت کلمات کُفریہ ثابت کئے اور شائع فرمائے بایں ہمہ(۵) اولاً
سُبْحَانُ السُّبُوْحِ عَنْ عَیْبِ کِذْبٍ مَقْبُوْحٍ (۶)،
(۱۳۰۷ھ) دیکھئے کہ بار اول (۷)(۱۳۰۹ھ) میں لکھنؤمطبع انوار ِ محمد ی میں چھپاجس میں بد لا ئل قاہر ہ(۸) دہلوی مذکور (۹) اور اس کے اتباع پر پچھتر /۷۵وجہ سے لزومِ کُفرثابت کرکے(۱۰)صفحہ ۹۰ پر حکمِ اخیر یہی لکھا کہ علمائے محتاطین انہیں کَافِر نہ کہیں یہی صَوَاب ہے
وَ ھُوَ
(۱)دلیل ۔ گواہ ۔(۲)جھوٹا ہونے(۳)سورج(۴)جھوٹا الزام، تہمت ۔(۵)اسکے باوجود ۔ (۶)سُبْحَانَ السُّبُوْحِ عن عیب کِذْب مقبوح مجدد اعظم امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک رسالے کا نام ہے جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اﷲعزّوجل ہر طرح جھوٹ سے بَر ی ہے (۷)پہلی مرتبہ ۔(۸) زبر دست دلیلوں کے ساتھ (۹)یعنی اسمعیل دہلوی۔(۱۰)یعنی پچھتر ۷۵طرح سے کفر کا لازم ہونا ثابت کیا ہے۔