| ایمان کی پہچان |
دیا یہاں تک کہ ان میں کے بعض بزرگواروں نے مولانا شاہ محمد حسین صاحب ا لہٰ آبادی مرحوم و مغفور سے جاکر جڑدی (۱)کہ معاذ اﷲحضر ت سید ناشیخ اکبر محی الدین عربی قدس سرہ کو کَافِر کہہ دیا ۔ مولانا کو اﷲتعالی عزّوجلّ جنت عالیہ عطافر مائے۔انہوں نے آیت کریمہ
اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا (2)
پر عمل فرمایا۔ خط لکھ کر دَریَافْت کیا جس پر یہاں سے رسالہ اِنْجَاءُ الْبَرِیْ عَنْ وَسْوَاسِ الْمُفْتَرِیْ لکھ کر ارسال ہو ا اور مولانا نے مفتری کذاب پر لاحو ل شریف کا تحفہ بھیجا(۳) غرض ہمیشہ ایسے ہی افتراء اٹھایاکرتے ہیں (۴) جس کا جواب وہ ہے جو :
تُمہارا رب عَزّوَجلَّ فرماتاہے:
''اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ"۔
ترجمہ :۔ جھوٹے افتراء وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے ۔ (پ ۱۴،/نحل ۱۰۵) اور فر ماتا ہے:
فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۱﴾
ترجمہ :۔ ہم اﷲکی لعنت ڈالیں جھوٹوں پر ۔ (پارہ ۳،آلِ عمراٰن/ ۶۱) مسلمانو! اس مکرِ سخیف(۵) وکیدِ ضعیف (۶) کا فیصلہ کچھ دُشوار نہیں ، ان صاحبو ں سے ثبو ت مانگوکہ کہہ دیا کہہ دیافرماتے ہو، کچھ ثبوت دکھاتے ہو، کہاں کہہ
(۱)جاکرجھوٹی چغلی لگادی ۔(۲)ترجمہ کنز الایمان:اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو تحقیق کرلو''(پارہ ۲۶، حجرات ۶)(۳)یعنی حضرت نے اس جھوٹا الزام لگانے والے کذاب پر لاحو ل پڑھی جھوٹے الزام لگایا کر تے ہیں۔(۵) کمزور اور ضعیف چالبازی۔(۶)کمزور دھوکے۔