| ایمان کی پہچان |
قدرت پائی(۱) بلکہ کہاتو یہ کہ'' میں مباحثہ کے واسطے نہیں آیا ، نہ مباحثہ چاہتا ہوں ، میں اس فن میں جاہل ہو ں اور میرے اساتذہ بھی جاہل ہیں معقول بھی کردیجئے (۲)میں تووہی کہے جاؤں گا۔'' وہ سوالات اور اس واقعہ کا مفصل ذکر بھی جبھی ۱۵جمادی الآخرۃ۱۳۲۳ھ کوچھاپ کر َسرْغنہَ و اَتبْاَع(۳) سب کے ہاتھ میں دے دیاگیا،اِسے بھی چوتھا سال ہے صدائے برنخاست(۴)۔ ان تمام حالات کے بعد وہ انکاری مکر ایسا ہی ہے کہ سرے سے یہی کہہ دیجئے کہ اﷲورَسُول عزّوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ دشنام دہندہ لوگ دنیا میں پیدا ہی نہ ہوئے ،یہ سب بناوٹ ہے ۔اس کا علاج کیا ہوسکتاہے ،اﷲتعالی عزّوجلّ حیادے۔
مکرِ پَنجم
جب حضرات کو کچھ بن نہیں پڑتی ، کسی طرف مفر (۵) نظر نہیں آتی اور یہ توفیق اﷲ وَاحِدقہّار نہیں دیتا کہ توبہ کریں اﷲتعالی عزّوجلّ اور محمد رَسُول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی شان میں جو گستاخیاں بکیں ، جو گالیاں دیں ، ان سے باز آئیں جیسے گالیاں چھاپیں ان سے رجوع(۶) کا بھی اعلان دیں کہ رَسُول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم فرماتے ہیں :
''اِذَا عَمِلْتَ سَیَّئَۃً فَاَحْدِثْ عِنْدَھَا تَوْبَۃً اَلسِّرَّ بِالسِّرِّ وَالْعَلاَنِیَّۃَ بِالْعَلاَنِیَّۃِ''۔
ترجمہ:''جب
(۱)کوئی دوسرا مطلب نہ بنا سکے۔(۲)عقلاً ثابت بھی کردیں کہ میں غلط ہوں (استغفراﷲ یہ ہٹ دھرمی )۔(۳) چیلوں ۔ چمچوں ۔(۴)کوئی شنوائی نہ ہوئی۔(۵) بھاگنے یا فرارہونے کی جگہ۔ بھاگنے کا راستہ ۔(۶) توبہ ۔