خود چھاپی ہوئی کتابو ں سے فتوی کا انکار کردینا سہل تھانہ یہی بتایا کہ مطلب وہ نہیں جو علمائے اہل ِ سنّت بتارہے ہیں بلکہ میرا مطلب یہ ہے ،نہ کُفر صَرِیح کی نسبت ،کوئی سہل بات تھی جس پر التِفات نہ کیا(۱)۔ زید سے اس کا ایک مہری فتویٰ اس کی زندگی و تندرستی میں علانیہ نقل کیا جائے اور وہ قطعاً یقینا صَرِیح کُفر ہو اور سالہاسال اس کی اشاعت ہوتی رہے ،لوگ اس کا رد،چھاپا کریں ، زید کو اس کی بنا ء پر کَافِربتایا کریں ،زید اس کے بعد پندرہ برس جیۓ اور یہ سب کچھ دیکھے سنے اور اس فتویٰ کی اپنی طرف نسبت سے انکار اصلاً شائع نہ کرے بلکہ دم سادھے رہے یہاں تک کہ دم نکل جائے ،کیا کوئی عاقل(۲) گما ن کرسکتاہے کہ اس نسبت سے اُسے انکار تھا یا اس کا مطلب کچھ اور تھا اور ان میں کے جو زندہ ہیں آج کے دم تک ساکت ہیں ، نہ اپنی چھاپی کتابوں سے مُنکِرہوسکتے ہیں نہ اپنی دشناموں کااورمطلب گھڑ سکتے ہیں۔
۱۳۲۰ھ میں ان کے تمام کفریات کا مجموع یکجائی رد (۳)شائع ہوا۔ پھر ان دشنامیوں کے متعلق، کچھ عمائدِ مسلمین علمی سوالات ان میں کے سرغنہ(۴) کے پاس لے گئے ،سوالوں پر جو حالتِ سَرَاسِیمَگِی (۵)بے حد پیدا ہوئی، دیکھنے والوں سے اس کی کیفیت پوچھیئے مگر اس وقت بھی ان تحریرات سے انکار ہوسکا نہ کوئی مطلب گڑھنے پر