ع ہوتی آئی ہے کہ انکار کیا کرتے ہیں(۱)
اِن لوگوں کی وہ کتابیں (۲) جن میں کلماتِ کُفریہ ہیں مدتوں سے انہوں نے خود اپنی زندگی میں چھاپ کر شائع کیں اور ان میں بعض دو دوبار چھپیں مدتہامدت(۳) سے علمائے اہلِسنت نے ان کے ردچھاپے ،مواخذے(۴)کئے وہ فتوے(۵) جس میں اﷲتعالی عزّوجلّ کو صاف صاف کا ذب جھوٹا مانا ہے اور جس کی اصل مہری و دستخطی اس وقت تک محفوظ ہے اور اس کے فوٹو بھی لئے گئے جن میں سے ایک فوٹو کہ علمائے حرمین شریفین کو دکھانے کے لئے مع دیگرکتبِ دشنامیاں گیا تھا سرکار مدینہ طیبہ میں بھی موجودہے۔
یہ تَکْذیْب ِخدا کا ناپاک فتوی اٹھارہ برس ہوئے ربیع الاٰخر ۱۳۰۸ھ میں رسالہ صِیَانُ النَّاسِ کے ساتھ مطبع حدیقَۃُ العلوم میرٹھ میں مَعَ رد کے شائع ہوچکا (۶) پھر۱۳۱۸ ھ مطبع گلزار حسنی بمبئی میں اس کا اور مُفَصَّل رد(۷) چھپا، پھر ۱۳۲۰ ھ میں پٹنہ عظیم آباد مطبع تحفہ حنفیہ میں اس کا اور قَاہِر رد (۸)چھپا اور فتوے دینے والاجمادی الآخر ہ ۱۳۲۳ھ میں مرا،اورمرتے دم تک ساکت ر ہا (۹)نہ یہ کہا کہ وہ فتوی میرا نہیں حالانکہ