Brailvi Books

ایمان کی پہچان
128 - 162
    ع           ہوتی آئی ہے کہ انکار کیا کرتے ہیں(۱)

اِن لوگوں کی وہ کتابیں (۲) جن میں کلماتِ کُفریہ ہیں مدتوں سے انہوں نے خود اپنی زندگی میں چھاپ کر شائع کیں اور ان میں بعض دو دوبار چھپیں مدتہامدت(۳) سے علمائے اہلِسنت نے ان کے ردچھاپے ،مواخذے(۴)کئے وہ فتوے(۵) جس میں اﷲتعالی عزّوجلّ کو صاف صاف کا ذب جھوٹا مانا ہے اور جس کی اصل مہری و دستخطی اس وقت تک محفوظ ہے اور اس کے فوٹو بھی لئے گئے جن میں سے ایک فوٹو کہ علمائے حرمین شریفین کو دکھانے کے لئے مع دیگرکتبِ دشنامیاں گیا تھا سرکار مدینہ طیبہ میں بھی موجودہے۔

     یہ تَکْذیْب ِخدا کا ناپاک فتوی اٹھارہ برس ہوئے ربیع الاٰخر ۱۳۰۸ھ میں رسالہ صِیَانُ النَّاسِ کے ساتھ مطبع حدیقَۃُ العلوم میرٹھ میں مَعَ رد کے شائع ہوچکا (۶) پھر۱۳۱۸ ھ مطبع گلزار حسنی بمبئی میں اس کا اور مُفَصَّل رد(۷) چھپا، پھر ۱۳۲۰ ھ میں پٹنہ عظیم آباد مطبع تحفہ حنفیہ میں اس کا اور قَاہِر رد (۸)چھپا اور فتوے دینے والاجمادی الآخر ہ ۱۳۲۳ھ میں مرا،اورمرتے دم تک ساکت ر ہا (۹)نہ یہ کہا کہ وہ فتوی میرا نہیں حالانکہ
 (۱)یہ ان لوگوں کی پرانی عادت ہے کہ یہ لوگ انکار کردیتے ہیں یعنی کہہ کر مُکر جاتے ہیں۔(۲)یعنی براہین قاطعہ و حفظ الایمان و تحذیر الناس وکتب قادیانی وغیرہا فتوائے گنگو ہی ۔ (۳)بہت عرصے تک ۔(۴)باز پر س کی ۔ پوچھ گچھ کی ۔(۵) براہین قاطعہ و حفظ الایمان ۔ (۶)جواب کے ساتھ چھپ چکا ہے ۔(۷) تفصیلی جواب ۔(۸) زبردست جواب ۔ 

(۹)مرنے تک خاموش رہا۔
Flag Counter