انکا ر ، یعنی جس نے ان بدگویوں کی کتابیں نہ دیکھیں اس کے سامنے صاف مُکر جاتے ہیں (۱)کہ ان لوگوں نے یہ کلمات کہیں نہ کہے اور جو ان کی چھپی ہوئی کتابیں ،تحریریں دکھادیتاہے۔اگر ذی علم ہواتو (۲)ناک چڑھاکر منہ بناکر چل دئے یا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بَکمالِ بے حیائی صاف کہہ دیا کہ آپ معقول بھی کر دیجئے تومیں وہی کہے جاؤں گا(۳)اور بےچارہ بے علم ہوا تو اس سے کہہ دیا ان عبارتوں کا یہ مطلب نہیں اورآخر میں ہے کیا یہ در بطنِ قائل (یعنی ان عبارتوں کامطلب تو کہنے والاہی جانتا ہے )، اس کے جواب کو وہی آیتِ کریمہ کافی ہے کہ
یَحْلِفُوۡنَ بِاللہِ مَا قَالُوۡا ؕ وَلَقَدْ قَالُوۡاکَلِمَۃَ الْکُفْرِ وَکَفَرُوۡا بَعْدَ اِسْلٰمِہِمْ
''خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا حالانکہ بے شک ضروروہ یہ کفر کے بول بو لے اور مسلمان ہوئے پیچھے، کَافِر ہوگئے۔(۴)(پارہ ۱۰،توبہ ۷۴)
(۱)صاف انکار کردیتے ہیں ۔(۲)یعنی اگر ان گستاخوں کی عبارتوں کو دکھانے والا صاحب علم ہو تو یہ گستاخوں کے پیروکار ، منہ بناکر ناک چڑھا کر ڈھیٹ بن کر چلے جاتے ہیں ۔(۳) صاف انکار کردیتے ہیں ۔
(۴)ایمان لانے کے بعد کَافِر ہوگئے ۔