Brailvi Books

ایمان کی پہچان
126 - 162
مَسْمُوْع نہیں (۱)۔

     شفاء شریف میں ہے
اِدَّعَاؤُہٗ التَّاوِیْلَ فِیْ لَفْظٍ صَرَاحٍ لاَ یَقْبَلُ
ترجمہ'' صَرِیح لفظ میں تاویل کا دعویٰ نہیں سنا جاتا(۲)۔
     شرح شفاء قاری میں ہے
ھُوَ مَرْدُوْدٌ عِنْدَ الْقَوَاعِدِ الشَّرْعِیَّۃِ
ترجمہ ''ایسا دعویٰ شریعت میں مردو د ہے۔ '' 

    نسیم الریاض میں ہے
لاَیُلْتَفَتُ لِمِثْلِہٖ وَ یُعَدُّ ھِذْیَانًا۔
ترجمہ ''ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا(۳)''اور ہذیان سمجھی جائے گی (۴)''۔

    فتاویٰ خلاصہ و فصول ِ عمادیہ جامع الفصولین و فتاویٰ ہندیہ وغیر ہا میں ہے۔
وَاللَّفْظُ لِلْعَمَادِی قَالَ اَنَا رَسُوْلُ اللہِ اَوْ قَالَ بِالْفَارْسِیَّۃِ
من پیغمبرم
یُرِیْدُ
 (۱)ہرگز سننے کے قابل نہیں ہرگز نہ مانی جائیں گی ۔(۲) واضح لفظ سے اسکے ظاھری معنی ہی سمجھے جاتے ہیں ظاھری معنی کے خلاف مطلب لینے کادعویٰ قابل قبول نہیں۔ مثلاً کوئی شخص کہے ''میں خدا ہوں پھر اسکی تاویل یہ کرے کہ میرا مطلب یہ تھا کہ میں خدا کا بندہ ہوں ۔ تو اسکا دعوی ٰ درست نہیں ماناجائیگا ۔ یونہی جو الفاظ عام بول چال یا شریعت میں کسی خاص معنی کیلئے بولے جاتے ہیں تو ان الفاظ سے وہی مطلب لیاجائے گا مثلاً کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا تجھے طلاق ہے تواس سے طلاق ہی سمجھی جائے گی اور اگر وہ یہ دعویٰ کرے کہ طلاق سے میرا مطلب تھا کہ تیرے میکے جانے پہ پابندی نہیں تو آزاد ہے کیونکہ طلاق کا لفظی مطلب آزادی ہے تو اسکا یہ دعویٰ نہیں سنا جائے گا کیونکہ شریعت میں لفظ طلاق سے خاص معنی (نکاح کا خاتمہ) ہی مراد لئے جاتے ہیں چنانچہ اگرکسی نے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں ایسے الفاظ کہے جو تَوْہِیْن کیلئے بولے جاتے ہیں تو اس پر حکم کفر لگے گا چاہے انکا لفظی ترجمہ کچھ اور بنتا ہو۔(۳)ایسے قول کی طرف بالکل توجہ نہ کی جائے گی۔(۴)اور وہ تاویل بکواس سمجھی جائے گی۔
Flag Counter