عمرو کہے میں رَسُول اﷲہوں ، اس میں یہ تاویل گڑھ لی جائے کہ لغوی معنی مراد ہیں(۶) یعنی خدا ہی نے اس کی روح بدن میں بھیجی ، ایسی تاویلیں زِنْہَار
(۱)ضروری نوٹس ۔(۲)یعنی ایک لفظ کہہ کر اسکے وہی معنی مراد لے سکتے ہیں جو معنی اس لفظ کے واقعی بنتے بھی ہوں۔(۳)یعنی واضح بات میں کوئی ایسا مطلب نہیں نکال سکتے جو اسکے عرفی مطلب کے خلاف ہولفظ خدا کا مطلب ہے وہ ذات جو خود بخود ہو جسے کسی نے پیدا نہ کیا ہوتو اب اگر کوئی شخص کہے ' 'میں خدا ہوں ''یعنی خود آیا ہو ں تو اسکا یہ دعوی ٰ نہیں مانا جائے گا اور اسے کَافِر کہا جائے گاکیونکہ شریعت میں لفظ ِخدا سے معبو د مراد ہے اور یہی معنی مشہور ہے تو اب کسی دور کے معنی کا دعوی قبول نہیں کیا جائے گا۔یونہی لفظ صلوۃ کا لفظی معنی سرین ہلانا بھی ہے تو اگر کوئی شخص کہے کہ قرآن میں اقیمو االصلوۃ سے مراد ڈانس کرتے رہو تو اسکی بکواس نہیں سنی جائے گی کیونکہ شریعت میں صلوۃ کامعنی ہے مخصوص طریقے سے نمازپڑھنا پڑھنا۔(۴)یعنی کہا کہ خدا دو ہیں تو قطعاً کَافِر ہے اسکا یہ قو ل نہیں ماناجائے گا کہ میرے قول میں خدا سے مراد حکم خدا ہے یعنی خدا کاحکم دو طرح سے ہے ایک وہ جو طے شدہ (مبرم )ہے اور دوسرا کسی شرط سے مشروط ہے ۔(۵) مگر یہ کہ اﷲتعالی آئے یعنی اﷲکا حکم تشریف لائے۔(۶) (یعنی لفظی معنی کہ) اﷲ نے مجھے بھیجا ہے۔