Brailvi Books

ایمان کی پہچان
123 - 162
تَعَالٰی عَلٰی وَجْہٖ الظَّنِّ لاَ یُکَفَّرُ وَ اِنَّمَا یُکَفَّرُ اِذَا اِعْتَقَدَ الْحَرَامَ حَلاَلاً وَ نَظِیْرُہٗ مَا ذَکَرہٗ الْقُرْطُبِیْ فِیْ شَرْحِ مُسْلَمٍ اَنَّ ظَنَّ الْغَیْبِ جَائِزٌ کَظَنِّ الْمُنَجِّمِ وَ الرَّمَّالِ بِوُقُوْعِ شَیْءٍ فِی الْمُسْتَقْبِلِ بِتَجْرِبَۃِ اَمْرٍ عَادِیٍّ فَھُوَ ظَنٌّ صَادِقٌ وَالْمَمْنُوْعُ اِدِّعَاءُ عِلْمِ الْغَیْبِ وَالظَّاھِرُ اَنَّ اِدِّعَاءَ ظَنِّ الْغَیْبِ حَرَامٌ لاَ کُفْرٌ بِخِلاَفِ اِدِّعَاءِ الْعِلْمِ اھ زَادَ فِیْ الْبَحْرِ اَلاَ تَرٰی اَنَّھُمْ قَالُوْا فِیْ نِکَاحِ الْمُحْرِمِ لَوْ ظَنَّ الْحِلَّ لاَ یُحَدُّ بِالْاِجْمَاعِ وَ یُعَزَّرُ کَمَا فِیْ الظَّھِیْرِیَّۃِ وَ غَیْرِھَا وَ لَمْ یَقُلْ اَحَدٌ اِنَّہٗ یُکَفَّرُ وَ کَذَا فِیْ نَظَائِرِہٖ اھ .....(۱)
=  ہونے والی ہے تو ایسا دعو ی کفر نہیں کیونکہ محض اندازے کی با ت ہے قطعی علم کا دعوی نہیں ۔ یہاں علماء کرا م رحمتہ اﷲ علیھم کے مسائل سے پتہ چلا کہ جس نے اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کسی حرام کی ہوئی شے کو ظنی طور پر حلال ٹھہرایا تو اسے کَافِرنہ کہاجائے گا اسے توصرف اس صورت میں کَافِر کہیں گے کے جب وہ حرامِ (قطعی) کو حلال یقین کرلے اور اسکی مثال وہ ہے جو قرطبی نے مسلم کی شرح میں ذکرکی ہے کہ غیب کاظن جائز ہے جیسے نجومی اور ستاروں کاعلم جاننے والے کا عادت اورتجربے کی وجہ سے کسی شے کے آئیندہ واقع ہونے کا ظن۔پس وہ سچا گمان ہے ہاں عِلمِ غَیْب کا دعویٰ کرنا بُرا ہے اور ظاہریہ ہے کہ غیب کے ظن کا دعوی حرام ہے کفر نہیں جبکہ علم (غیب ذاتی یقینی )کا دعوی کفر ہے ۔بحر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ کیا تو نہیں دیکھتا کہ علماء کرام رحمتہ اﷲعلیہم نے فرمایا کہ حالتِ احرام میں نکاح کرنے والا اگر اسکے حلال ہونے کا ظن رکھے تو اسے حدِ (زنا)نہ لگائی جائے گی البتہ کوئی دوسری چھوٹی سزا (تعزیر ) دی جائے گی جسطرح ظھیر یہ وغیرہا میں ہے اور کسی ایک نے بھی یہ نہ کہا کہ اُسے کَافِر کہاجائے گا اور اسی طرح اسکی دوسری مثالیں ہیں ۔
Flag Counter