Brailvi Books

ایمان کی پہچان
122 - 162
اقوال میں تو ایک چھوڑمُتَعَدَّد احتِمال اسلام کے ہیں(۱) کہ یہاں علمِ غیب ِقطعی، یقینی کی تصَرِیح نہیں(۲) اور علم کا اِطْلَاق ظَن پر شائِع وذائِع ہے (۳)تو علم ِظنی کی شِق بھی پیدا ہوکر ا کیس کی جگہ بیالیس احتِمال نکلیں گے(۴) اور ان میں بہت سے کفر سے جدا ہوں گے کہ غیب کے علمِ ظَنِّی کا اِدِّعَاء کفر نہیں(۵)۔ بحر الرائق و ردالمحتار میں ہے:
عُلِمَ مِنْ مَسَائِلِھِمْ ھُنَا اَنَّ مَنِ اسْتَحَلَّ مَا حَرَّمَہٗ اللہُ
	 (۱)ورنہ ان اقوال میں تو ایک نہیں بلکہ کئی اسلامی معنی پائے جاتے ہیں۔یقینی و قطعی علم وہ ہے جس میں کسی طرح سے کسی قسم کے شک و شبے کی گنجائش نہ ہو او ر علم ظنّی وہ علم ہے جس میں تھوڑا بہت شبہ ہوسکتاہے اسی طرح جو علم اندازے سے حاصل ہوتا ہے اسے بھی ظنی کہتے ہیں البتہ عام بو ل چال میں اسکَافِر ق نہیں کرتے بلکہ عام طور پر علم کا لفظ یقینی اور ظنی دونوں کیلئے بولا جاتاہے ۔(۲)یعنی ان اقوال میں یہ نہیں کہا گیا کہ ان (ارواح یا ملائکہ وغیرہ)کو غیب کاایسا علم ملاہے جس میں شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔(۳) یعنی ظن (اندازے) کو بھی عام بول چال میں علم کہہ دیا جاتاہے۔(۴)یعنی پیچھے جو ۲۱احتمالات کاذکر ہوا وہ اس صورت میں تھے جب کہنے والا علم یقینی کادعوی کرے اور اگر یہ دعوی نہ کرے تو یہی تمام ۲۱ معنی علم ظنی (اندازے سے حاصل ہونے والے علم یا ایساعلم جس میں کوئی شبہ ہو)کے طور پر نکلیں گے اور زید کے قول کہ (عمروکو عِلمِ غَیْب ہے) میں دونوں پہلوؤں علم یقینی (۲۱معنی)اور علم ظنی کا لحاظ رکھتے ہوئے (۲۱معنی )یعنی کل بیالیس معنی نکلیں گے جن میں سے کئی ایک اسلامی ہوں گے اور ان صورتوں میں کفر کا فتوٰی نہیں دیا جائے گا اور یہی بیالیس معنی ارواح بزرگان دین اور ملائکہ کے علم غیب جاننے میں نکلیں گے تو کفر کا فتویٰ نہ لگے گا مگر اسی صورت میں جو خاص کفری معنی ہیں یعنی خدا کے بتائے بغیر خود بخود جان لینا ۔(۵) غیب کا اندازہ لگاکریہ دعوی کرنا کہ ایساایساہوگا یہ کفر نہیں ہے ۔مثلاً عام طور پر بادل جب مغرب کی سمت سے آتے ہیں تو بارش ہوتی ہے تو اگر کوئی شخص بادلوں کومغرب کی سمت سے آتا دیکھاکر کہے کہ میر ے علم کے مطابق بارش  =
Flag Counter