اس تحقیق سے یہ بھی روشن ہوگیا کہ بعض فتاوے مثل فتاوے قاضی خان وغیرہ میں جو اس شخص پر کہ اﷲورَسُول کی گواہی سے نکا ح کرے یا کہے ارواح مشائخ حاضر وواقف ہیں(۴) یاکہے ملائکہ غیب جانتے ہیں بلکہ کہے مجھے غیب معلوم ہے ،حکم کفردیا ، اس سے مراد وہی صورت کفریہ(۵)مثل اِدّعاَئے ِعلمِ ذاتی(۶)وغیرہ ہے۔ورنہ ان
(۱)(بحر الرائق میں ہے) اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ کسی ایسے مسلمان کو کَافِر نہ کہاجائے جسکے کلام میں کسی اچھے معنی کا تلاش کرنا ممکن ہو۔(۲)یعنی ان کتابوں میں جوگفتگو ہے وہ اس صورت میں ہے کہ جب ایک لفظ بولاجائے اور اسکے (اچھے بُرے) کئی مطلب بنتے ہوں اگر بولنے والامسلمان ہے تو اسکے حسن ظن کی بناء پر کَافِر نہ کہاجائے گا۔یہ بات نہیں کہ ایک شخص چند باتیں بولے ان میں کوئی کفر ہو او ر کوئی اسلام پھر بھی اسے کَافِر نہ کہیں ۔ ولاحو ل ولاقوۃ الا باللٰہ۔ جب تک کَلِمَہ کفر سے توبہ نہ کرے اور نئے سرے سے کَلِمَہ پڑھ کر مسلمان نہ ہو اسے کَافِر ہی جانیں گے۔
(۳) انتہائی اہم اور کام کی بات ۔(۴)بزرگوں کی اراوح حاضر ہیں او جوکچھ ہم کررہے ہیں انہیں جانتی ہیں ۔یعنی یہ اقوال اسی صورت میں کفر ہیں جب کہنے والا یہ یقین کرے کہ یہ سب لوگ اﷲکی عطاء کے بغیر یہ سب کچھ جانتے ہیں (معاذاﷲاور ایسا عقیدہ کسی مسلمان کا نہیں ہے)۔ (۵)کفر کی صورت ۔(۶)یعنی یہ دعوی کرنا کہ یہ ارواح و ملائکہ وغیرہا خود بخود اﷲکی عطاء کے بغیر ہی سب کچھ جان لیتے ہیں ۔