| ایمان کی پہچان |
اِذَا کَانَتْ فِیْ الْمَسْاَ لَۃِ وُجُوْہٌ تُوْ جِبُ التَّکْفِیْرَ وَ وَجْہٌ وَاحِدٌیَمْنَعُ التَّکْفِیْرَ فَعَلٰی الْمُفْتِیْ وَ الْقَاضِیْ اَنْ یَمِیْلَ اِلٰی ذٰلِکَ الْوَجْہِ وَلَا یُفْتِیْ بِکُفْرِہٖ تَحْسِیْنًا لِلظَّنِّ بِالْمُسْلِمِ ثُمَّ اِنْ کَانَتْ نِیَّۃُ الْقَائِلِ الْوَجْہَ الَّذِیْ یَمْنَعُ التَّکْفِیْرَ فَھُوَ مُسْلِمٌ وَاِنْ لَمْ یَکُنْ لَایَنْفَعُہٗ حَمَلَ الْمُفْتِیْ کَلَامَہ ٗعَلٰی وَجْہٍ لَایُوْجِبُ التَّکْفِیْرَ ۔(۱)
اسی طرح فتاویٰ بزازیہوبحر الرائق و مجمع الانہر و حدیقہ ندیہ وغیر ہامیں ہے ۔ تاتارخانیہ وبحروسل الحسام و تنبیہ الولاۃ وغیر ہا میں ہے:
لَایُکَفَّرُ بِالْمُحْتَمَلِ لِاَنَّ الْکُفْرَ نِھَایَۃٌ فِی الْعُقُوْبَۃِ فَیَسْتَدْ عِیْ نِہَایَۃً فِی الْجِنَایَۃِ وَمَعَ الْاِحْتِمَالِ لَانِھَایَۃَ۔(۲)
= قاضی کو چاہیے کہ اسلامی معنی کو مدنظر رکھے ''اور کفر کا فتوی نہ دے۔ (۱)جب کسی مسئلے میں کئی معنی ہوں جوکفر کوثابت کریں اور ایک معنی ایسا ہوجوکفر سے روکتا ہو تو مفتی و قاضی کو لازم ہے کہ اسی معنی کی طرف توجہ کرے اور مسلمان سے حسن ظن رکھتے ہوئے کفر کاحکم نہ دے پھر اگر کہنے والے کی نیت اسی معنی کی تھی جو کفر سے روکتا ہے (اسلامی معنی )تو وہ مسلمان ہے اور اگر اسکی نیت اسلامی معنی کی نہ تھی (بلکہ کفر ی معنی کی تھی)تو مفتی کا اسکے کلام کو اسلامی سمجھنا اسے کوئی فائدہ نہ دے گا(اور اﷲکے یہاں کَافِر ہی ہوگا۔( انماالاعمال بالنیات)۔(۲) کسی کے کَافِر ہونے کا فتوی اس صورت میں نہ دیا جائے جب اسکے کلام کے کچھ اچھے معنی بھی ہوں اس لئے کہ سزاؤں میں سب سے بڑی سزا (سزاؤں کی انتہا)کفر ہے اور یہ تقاضہ کرتی ہے کہ جرم بھی انتہائی بڑا ہو اور جب کہ اسکے کلام میں کوئی اچھا معنی بھی ہے تو جرم کی انتہانہ ہوئی (اس وجہ سے کفر کا فتوی جاری نہ کیا جائے)۔